بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

چھوٹا پیشاب کرنے بعد دونوں شرمگاہ کا دھونا ضروری نہیں ہے۔


سوال

اگر صرف چھوٹا پیشاب کیا ہوتوکیا استنجاء کے لیے پیشاب والی جگہ کا دھونا ضروری ہے؟ یا پیشاب و پاخانہ  والی دونوں جگہیں دھونا ضروری ہے؟

جواب

اگر صرف چھوٹا پیشاب کیا ہو، پیشاب والی جگہ پر ناپاکی ہو، لیکن  پاخانہ والی جگہ پر کوئی ناپاکی نہ ہوتو استنجاء میں صرف  پیشاب والی جگہ کا دھونا ضروری ہے، پاخانہ والا مقام دھونا ضروری نہیں ہے۔

فتح الباری میں ہے:

"واستدل به بعض المالكية والحنابلة على إيجاب استيعابه بالغسل عملا بالحقيقة لكن الجمهور نظروا إلى المعنى فإن الموجب لغسله إنما هو خروج الخارج فلا تجب المجاوزة إلى غير محله ويؤيده ما عند الإسماعيلي في رواية فقال توضأ واغسله فأعاد الضمير على المذي ونظير هذا قوله من مس ذكره فليتوضأ فإن النقض لايتوقف على مس جميعه واختلف القائلون بوجوب غسل جميعه هل هو معقول المعنى أو للتعبد فعلى الثاني تجب النية فيه قال الطحاوي لم يكن الأمر بغسله لوجوب غسله كله بل ليتقلص فيبطل خروجه كما في الضرع إذا غسل بالماء البارد يتفرق لبنه إلى داخل الضرع فينقطع بخروجه".

(کتاب الطهارۃ، باب غسل المذی والوضوء منه، ج:1، ص:380، ط:دار المعرفة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144408102032

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں