بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

چست لباس پہنا اور اس میں سونا


سوال

مجھے چست لباس پہنے کا شوق ہے، رات کو سوتے وقت پہن سکتا ہوں جب کوئی دوسرا موجود نہ ہو اور اوپر چادر لے لی جائے ؟

جواب

لباس  کا کم ازکم درجہ یہ ہے کہ وہ ( لباس) ساتر ہو، یعنی جس حصے کا چھپانا واجب ہے وہ کھلا نہ رہے، نہ ایسا باریک ہو کہ جسم نظر آنے لگے اور نہ اتنا چست ہو کہ بدن کے جن اعضا کو چھپانا ضروری ہے ان میں سے کسی کی بناوٹ اور حجم نظر آجائے، لہٰذا اگر لباس اتنا چست اور تنگ ہو کہ اس سے مستورہ اعضاء کی بناوٹ اور حجم نظر آتا ہو تو اس کو پہننا، اسے پہن کر نماز پڑھنا، باہر نکلنا، لوگوں کو دکھانا  سب ناجائز ہے اور اس حالت میں دوسروں کا اسے دیکھنابھی ممنوع ہے۔

صورتِ  مسئولہ  میں  تنہائی میں بھی چست لباس پہنا نا مناسب ہے؛ اس لیے کہ  یہ شریعت کے روح کی مخالفت  ہے، اس سے پر ہیز کرنا چاہئے۔

 فتاویٰ شامی میں ہے:

"أقول: مفادہٗ أن روية الثوب بحیث یصف حجم العضو ممنوعة ولو کثیفًا لاتری البشرۃ منه، قال فی المغرب: یقال مسست الحبلی، فوجدت حجم الصبی فی بطنها وأحجم الثدی علی نحر الجاریة إذا نہز، وحقیقته صار له حجم أی نتو وارتفاع ومنه قوله حتی یتبین حجم عظامها اهـ وعلی هذا لا یحل النظر إلی عورۃ غیرہٖ فوق ثوب ملتزق بها یصف حجمها."

(ج:4،ص:344، فصل فی النظر والمس، ط؛ سعید)

 تکملۃفتح الملھم میں ہے:

"فکل لباس ینکشف معه جزء من عورة الرجل والمرأة لاتقره الشریعة الإسلامیة ..... وکذلک اللباس الرقیق أو اللا صق بالجسم الذي یحکي للناظر شکل حصة من الجسم الذي یجب ستره، فهو في حکم ماسبق في الحرمة وعدم الجواز".

( تکملة فتح الملهم، کتاب اللباس والزینة:ج:،ص:88

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144501100999

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں