بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

چوری کے پیسے مسجد میں دینے سے کیا مالک کا حق ساقط ہوجائےگا؟


سوال

جناب آپ کے فتوی نمبر 144205200551 سے متعلق مزید وضاحت چاہیے جس میں پوچھنا یہ تھا کہ کم عمری سے مراد یہ نہیں کہ میں بالغ نہیں تھا، میں اس وقت بالغ تھا، بلوغت کے بعد یہ غلطی کی ہے۔ اس صورت میں کیا حکم ہے؟ میرا سوال یہ تھا جو پہلے ارسال کر چکا ہوں، وضاحت فرما دیجیے:

کم عمری اور نادانی میں کسی کے پیسے اور حق کھایاہے، لیکن اب انتہائی افسوس ہو رہا ہے، اور اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جن کا حق کھایا ہے وہ نا معلوم ہیں، ان کا نہ ہی نام اور پتا معلوم ہے اور ناہی کبھی ان کے ملنے کی توقع ہے، اب کئی کئی بار مساجد میں چندے اس نیت سے دے چکا ہوں کہ شاید اس طریقے سے دیے گئے چندے کا ثواب اللہ تعالٰی ان تک پہنچا دے، اور مجھے معافی مل جائے، لیکن دل کو قرار نہیں!

جواب

سوال میں اگر کم عمری میں چوری کرنے سے مقصود  بلوغت کا زمانہ تھا، اور سائل اپنے گناہوں سے صدق دل سے توبہ کرچکا ہے، تو امید ہےکہ اللہ تعالیٰ مذکورہ جرم کا گناہ معاف فرمادیں، جیسے کہ حدیث شریف میں ہے:

"حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: گناہ کرکے (سچی) توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔"

(مشکوۃ المصابیح، کتاب الدعوات، باب الاستغفار والتوبۃ، ج:2، ص:730، ط:المکتب الاسلامی)

البتہ یہ بھی ملحوظ رہے کہ محض توبہ کرنے سے متاثر ہونے والے لوگوں کا حق ساقط نہیں ہوتا، بلکہ اس کا ادا کرنا لازم ہے، جس کی ادائیگی کا طریقہ کار یہ ہے کہ اگر مذکورہ رقم کا مالک ہی معلوم نہیں ہے (جیسے کہ سوال سے بھی یہی ظاہر ہورہاہے) اور نہ ہی وہ چوری کردہ رقم کی مقدار میں معلوم ہے تو ایک محتاط اندازا لگاکر اس سے کچھ زیادہ رقم   بلا نیتِ ثواب غرباء پر تقسیم کرے، غرباء پر تقسیم کیے بغیر ثواب کی نیت سے مسجد میں چندہ وغیرہ دینے سے ان کا حق ساقط نہیں ہوگا۔

معارف السنن میں ہے:

"قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقهائنا کالهدایة و غیرها: أن من ملك بملك خبیث، و لم یمكنه الرد إلى المالك، فسبیله التصدقُ علی الفقراء ... قال: و الظاهر أنّ المتصدق بمثله ینبغي أن ینوي به فراغ ذمته، ولایرجو به المثوبة."

(أبواب الطهارة، باب ما جاء: لاتقبل صلاة بغیر طهور، ج:1، ص:34، ط: المکتبة الأشرفیة)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144205201367

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں