بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

چوری کا مال واپس کرنا


سوال

میں ایک جگہ کام کرتا تھا اور وہاں سے چوری کرتا تھا، لیکن بعد میں میں نے مال کے مالک سے معافی مانگ لی، اس نے مجھے معاف کردیا اور مال واپس نہیں مانگا، میرے پاس پوری رقم واپسی کی موجود نہیں۔ اب میں کیا کروں؟

جواب

مال کے مالک کا حق ہے کہ وہ آپ سے اس رقم کا مطالبہ کرسکتا ہے، البتہ اگر وہ خود ہی معاف کردے اور نہ مانگے یا آپ کو بری کردے، تو عند اللہ بھی آپ بری ہوں گے، ان شاء اللہ۔ لہٰذا اگر آپ نے اس حوالے سے بھی معافی مانگی تھی اور مالک نے صراحتاً یا اشارۃً مال بھی معاف کردیا تو آپ کے ذمے اس کی ادائیگی شرعاً واجب نہیں ہوگی، بصورتِ دیگر تھوڑی تھوڑی کرکے رقم ادا کردیں۔

الموسوعة الفقهية الكويتية (24/ 343):
"اتفق الفقهاء على أن التوبة النصوح، أي الندم الذي يورث عزما على إرادة الترك تسقط عذاب الآخرة عن السارق  ، ولكنهم اختلفوا في أثر التوبة على إقامة حد السرقة". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109202924

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں