بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شعبان 1445ھ 27 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

انگوٹھے یا ورق پر سیاہی لگا کر شبیہ نظر آنے پر چور کی تعیین کا حکم


سوال

ہمارے علاقے میں اگر کوئی چیز چوری ہو جائے تو ایک مولوی صاحب ایک ورق کو مکمل سیاہ کر کے یا ناخن سیاہ کر کے کچھ پڑھنا شروع کر دیتے ہیں اور ایک بچے کو اس سیاہ ورق یا ناخن کی طرف متوجہ کر دیتے ہیں اب بچے کو اگر اس ورق یا ناخن میں سے کسی شخص کی شکل نظر آ جائے تو اسے چور تصور کیا جاتا ہے کیا یہ طریقہ شریعت کی نظر میں صحیح ہے ؟ جب کہ بچے کے سچ بولنے کا یقین بھی نہیں ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں  ورق یا ناخن کو سیاہ کرکے بچے کو اس کی طرف متوجہ کرنا اور پھر بچے کو کسی کی شکل نظر آنے پر چور کی تعیین کرنا شرعاً جائزنہیں ،کیوں کہ شریعت میں کسی چیز کے ثبو ت کے لیےشرعی گواہ(دومرد یا ایک مرد دوعورتیں )یا اقرار ضروری ہے،لہذا  بچے کے کہنے پر کسی پر چوری کا الزام لگانا اور کسی کی عزت کو پامال کرنا اور معاشرے میں اس کو بدنام کرناشرعاً ناجائز اور حرام ہے ،شریعت میں تو مسلمان کے خلاف بدگمانی بھی حرام ہے۔

نیز اسی طرح عراف یعنی کاہنوں کے پاس جانا اور ان سے اپنے حالات دریافت کرنا ناجائز اور حرام ہے، اگر کاہنوں  کی بتائی ہوئی  باتوں کی تصدیق بھی کی جائے اور ان کو غیب دان سمجھا جائے  تو معاملہ کفر تک پہنچ جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کاہنوں اور نجومیوں کے پاس جانے سے سختی سے منع کیا ہےاور احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔

حدیث پاک میں ہے:

"عن ابن عباس قال: «نظر رسول الله - صلى الله عليه وسلم  إلى الكعبة فقال: " لا إله إلا الله ما أطيبك، ‌وأطيب ‌ريحك، وأعظم حرمتك، والمؤمن أعظم حرمة منك، إن الله جعلك حراما، وحرم من المؤمن ماله، ودمه، وعرضه، وأن نظن به ظنا سيئا."

(مجمع الزوائد، كتاب الحج، باب فيما ينزل على الكعبة و المسجد من الرحمة، ج: 3، ص: 292، ط: مكتبة القدسي)

ترجمه:"حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کو دیکھ کر (تعجب سے) ارشاد فرمایا:لا الٰہ الّا اللہ (اے کعبہ)تو کس قدر پاکیزہ ہے،تیری خوشبو کس قدر عمدہ ہے،اور تو کتنا زیادہ قابلِ احترام ہے،(لیکن) مؤمن کی عزت و احترام تجھ سے زیادہ ہے،اللہ تعالی نے تجھے قابل احترام بنایاہے،اور (اسی طرح) مؤمن کی مال ،خون اور عزت کو بھی قابل احترام بنایاہے،اور (اسی احترام کی وجہ سے) اس بات کو بھی حرام قرار دیاہے کہ ہم مؤمن کے بارے میں ذرا بھی بدگمانی کریں۔"

 "وعن عائشة قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إن الملائكة تنزل في العنان - وهو السحاب - فتذكر الأمر قضي في السماء، فتسترق الشياطين السمع فتسمعه فتوحيه إلى الكهان، فيكذبون معها مائة كذبة من عند أنفسهم» ". رواه البخاري".

(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، (7/ 2904)  ط: دار الفكر: بيروت)

ترجمہ :" حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو میں نے یہ کہتے سنا کہ: فرشتے آسمان سے نیچے بادلوں کے پاس اتر کر آسمان میں طے شدہ معاملے کے متعلق تذکرہ کرتے ہیں تو شیاطین (جنات) چوری چھپے ان باتوں کو سنتے ہیں اور یہ باتیں کاہنوں کو بتاتے ہیں، وہ اس کے ساتھ اپنی طرف سے سو جھوٹ مزید ملاتے ہیں۔"

 "وعن عائشة رضي الله عنها قالت: «سأل أناس رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الكهان، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنهم ليسوا بشيء. قالوا: يا رسول الله، فإنهم يحدثون أحياناً بالشيء يكون حقاً. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تلك الكلمة من الحق، يخطفها الجني، فيقرها في أذن وليه قر الدجاجة، فيخلطون فيها أكثر من مائة كذبة» . متفق عليه".

(مرقاة المفاتيح ،(7/ 2903) ط: دار الفكر بيروت)

ترجمہ:  "حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے کاہنوں کے متعلق پوچھا، (کاہن اس شخص کو کہا جاتا ہے جو مستقبل کی خبریں بتاتا ہے)، آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ لوگ کچھ نہیں، لوگوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! کبھی کبھار یہ ایسی باتیں بتاتے  ہیں جو سچ ہوتی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ یہ سچی  بات ہوتی ہے، جسے جن فرشتوں سے  اچک لیتا ہے، پھر اسے اپنے ساتھی کے کان میں مرغی کی آواز کی مانند بار بار دہراتا ہے، پھر یہ لوگ اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملاتے ہیں۔"

 "وعن حفصة - رضي الله عنها - قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «من أتى عرافاً فسأله عن شيء لم تقبل له صلاة أربعين ليلةً ". رواه مسلم".

(مرقاة المفاتيح، (7 / 2905) ط: دار الفكر بيروت)

ترجمہ: "حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو شخص نجومی کے پاس آیا اور اس سے کسی چیز کے متعلق پوچھے تو چالیس د ن تک اس کی نمازیں قبول نہیں ہوتیں۔"

 " وعن أبي هريرة - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من أتى كاهناً فصدقه بما يقول، أو أتى امرأته حائضاً، أو أتى امرأته في دبرها فقد برئ مما أنزل على محمد". رواه أحمد، وأبو داود".

(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - (7 / 2907) ط: دار الفكر، بيروت)

ترجمہ:" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ : جو شخص نجومی کے پاس آئے اور جو وہ کہتا ہے اس کی تصدیق کرتا ہے تو وہ اس دین سے بری ہوگیا جو محمد (ﷺ) پر نازل ہوا ہے۔"

" باب الكهانة، بفتح الكاف، وكسرها كذا في النسخ، وفي القاموس كهن له كمنع، ونصر، وكرم كهانة بالفتح قضى له بالغيب، وحرفته الكهانة بالكسر اهـ. والمراد بها هنا الأخبار المستورة من الناس في مستقبل الزمان".

(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، (7 / 2902) ط: دار الفكر بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144402100527

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں