بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا چور کی نماز قبول ہوگی؟

سوال

 اگر کوئی کسی کے ساتھ نوکری کرتا ہے اور اس سے پیسے چوری کرتا ہے تو کیا اس آدمی کی نماز ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب

چوری کرنا کبیرہ گناہ ہے، شرعی شرائط کے مطابق اس کا ثبوت ہوجائے تو اس کی حد بھی مقرر ہے، لہٰذا اگر مذکورہ شخص واقعتًا چوری کرتاہے تو اسے صدقِ دل سے توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ جس کے پیسے چوری کرتا ہے اس کا عوض دے کر  معافی مانگے۔ البتہ  نماز  مستقل عبادت ہے اور نماز پڑھنے سے نماز کا فریضہ اس سے ساقط ہوجائے گا، تاہم اگر چور تائب نہیں ہوتا اور مسروقہ مال واپس نہیں کرتا تو چوری کے مال کی وجہ سے اسے نماز کی نورانیت نصیب نہ ہوگی، بہرحال نماز پڑھتا رہے، ان شاء اللہ نماز کی پابندی اسے گناہ سے روک دے گی۔

{وَأَقِمِ الصَّلَاةَ  إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ} (45)

ترجمہ:اور نماز کی پابندی رکھیے، بے شک نماز (اپنی وضع کے اعتبار سے) بے حیائی اور ناشائستہ کاموں سے روک ٹوک کرتی رہتی ہے۔ (بیان القرآن)

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200850
تاریخ07-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں