بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

چھلکے والی مہندی کے ساتھ وضو اور نماز کا حکم


سوال

آج کل جو یہ چھلکے والی مہندی ہے کیا یہ لگا سکتے ہے ،اس سے وضو اور نماز ہوگی ؟

جواب

ہر قسم کی مہندی لگانا جائز ہے بشرطیکہ  مہندی میں کوئی ناپاک چیز ملی ہوئی نہ ہو، مہندی لگانے کے بعد وضو  وغیرہ کا حکم یہ ہے کہ مہندی لگانے سے جو رنگ لگا رہ جائے اس سے وضو  وغیرہ میں خلل نہیں آتا، البتہ اگر جمی ہوئی مہندی خشک ہوجائے اور ہاتھ پر جمی رہ جائے  تو اس پر وضو صحیح نہیں ہوگا، کیوں کہ وہ جسم پر پانی پہنچنے سے مانع ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں بعض مہندیاں ایسی ہیں کہ لگانے کے بعد جب ہاتھ دھولیتے ہیں تو رنگ کے ساتھ ساتھ ایک باریک جھلی نما تہہ بن جاتی ہے اور بعد میں جب رنگ اترنے لگتا ہے تو ایک باریک تہہ چھلکا بن کر الگ ہوجاتی ہے، ایسی مہندی اگر جسم تک پانی پہنچنے سے  مانع نہ ہو تو اس کو  لگاکر وضو کرنے سے وضو ہوجائے گا اور اگر ایسی مہندی جسم تک پانی پہنچنے سے مانع ہو تو  ایسی صورت میں وضو اور نماز شرعاً درست نہیں ہوگی ۔

باقی چوں کہ مہندی زیب و زینت کے لیے استعمال ہوتی ہے تو دیگر مہندی کے ہوتے ہوئے اس قسم کی مہندی استعمال نہیں کرنی چاہیے جس میں طہارت ونماز میں شک واقع ہوتا ہو۔

فتاوی شامی میں ہے :

''(ولا يمنع) الطهارة (ونيم) أي خرء ذباب وبرغوث لم يصل الماء تحته (وحناء) ولو جرمه، به يفتى۔

(قوله: به يفتى) صرح به في المنية عن الذخيرة في مسألة الحناء والطين والدرن معللاً بالضرورة. قال في شرحها: ولأن الماء ينفذه لتخلله وعدم لزوجته وصلابته، والمعتبر في جميع ذلك نفوذ الماء ووصوله إلى البدن''.

(کتاب الطہارۃ،فرض الغسل،ج:1،ص:154،سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

''في فتاوى ما وراء النهر: إن بقي من موضع الوضوء قدر رأس إبرة أو لزق بأصل ظفره طين يابس أو رطب لم يجز، وإن تلطخ يده بخمير أو حناء جاز۔

وفي الجامع الصغير: سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي يبقى في أظفاره الدرن أو الذي يعمل عمل الطين أو المرأة التي صبغت أصبعها بالحناء، أو الصرام، أو الصباغ؟ قال: كل ذلك سواء، يجزيهم وضوءهم ؛ إذ لا يستطاع الامتناع عنه إلا بحرج، والفتوى على الجواز من غير فصل بين المدني والقروي. كذا في الذخيرة۔ وكذا الخباز إذا كان وافر الأظفار. كذا في الزاهدي ناقلاً عن الجامع الأصغر. والخضاب إذا تجسد ويبس يمنع تمام الوضوء والغسل. كذا في السراج الوهاج ناقلاً عن الوجيز''.

(کتاب الطہارۃ،ج:1،ص:4،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404101932

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں