بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

چیک کو کم قیمت میں بیچنا خریدنا


سوال

چیک کو کم قیمت میں بیچناخریدنا کیساہے؟

جواب

چیک کو  کم قیمت  میں بیچناخریدنا   جائز نہیں ہے، اس  لیے کہ  چیک درحقیقت  قرض  یا دین  کی رسید ہے،  جس کو کم یا زیادہ قیمت میں بیچا نہیں جاسکتا۔

"تنقیح الفتاوی الحامدیة"میں ہے:

"الدیون تقضیٰ بأمثالها".

(کتاب البیوع، باب القرض، ج؛۱ ؍ ۵۰۰ ، ط:قدیمی)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"و في الأشباه: کل قرض جر نفعاً حرام". 

(کتاب البیوع، فصل فی القرض، ج:۵ ؍ ۱۶۶ ، ط:سعید )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208200612

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں