بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

چھینی گئی رقم میں زکوۃ کی نیت کرنا


سوال

میرے پاس پچھلے سال کی زکاۃ کی رقم ہے ، اور اس سال میرے مال (پچھلے سال کی زکاۃ کے علاوہ )پر ڈکیتی ہوئی، اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا میں اس ڈکیتی والے مال میں زکاۃ کی نیت کرکے پچھلے سال کے مال کو خود استعمال کرسکتا ہوں ۔

یعنی پچھلے سال کی زکاۃ کچھ باقی ہے ، کیا میں اپنے چھینے ہوئے مال میں پچھلے سال کی زکاۃ کی نیت کرسکتا ہوں ۔اور اس سال معمول کے مطابق زکاۃ ادا کروں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل سے جو رقم چھینی گئی ہے ، اس رقم کو زکوۃ میں شمار کرکے ، زکوۃ کی نیت کرنا جائز نہیں ہے، اس سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی اور جو گزشتہ سال کی زکوۃ کی مد میں نکالی ہوئی رقم ہے اس کا اپنے استعمال میں لانا درست ہے، لیکن اتنی مقدار رقم زکوۃ کی نیت سے ادا کرنا ضروری ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وشرط صحة أدائها نية مقارنة له) أي للأداء (ولو) كانت المقارنة (حكما) كما لو دفع بلا نية ثم نوى والمال قائم في يد الفقير

وفي الرد :(قوله: والمال قائم في يد الفقير) بخلاف ما إذا نوى بعد هلاكه بحر. وظاهره أن المراد بقيامه في يد الفقير بقاؤه في ملكه لا اليد الحقيقية، وأن النية تجزيه مادام في ملك الفقير، ولو بعد أيام۔۔(أو مقارنة بعزل ما وجب) كله أو بعضه"۔

(کتاب الزکوۃ ،ج:2،ص:269،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508102532

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں