بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الاول 1443ھ 26 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

چہرے کے دانوں سے خون نکلنے کی وجہ سے وضو کا حکم


سوال

میرے  چہرے پر بڑی تعداد میں پھنسیاں ہورہی ہیں، جب بھی میں وضو  کرتا ہوں تو خون ظاہر ہونےلگتا ہے اور نکلتا رہتا ہے حتی کہ بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ مسجد میں نماز پڑھنے گیا، خون نکلنے پر دوبارہ گھر آگیا، معلوم یہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس سلسلے میں کوئی رعایت ہوسکتی ہے یعنی وضو  کے اعادہ کے بغیر نماز پڑھ سکتا ہوں؟ اور اگر وضو کا اعادہ  کیے بغیر نماز  پڑھ  لی تو کیا حکم ہے، خون بعد  میں مسلسل نہیں آتا، پانچ دس منٹ تک آتا ہے۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  دانوں سے پس و خون  چوں کہ نماز کے مکمل وقت  میں جاری نہیں رہتا؛ لہذا سائل شرعی طور پر معذور شمار نہ ہوگا، جس کے سبب خون  نکلتے ہی  وضو ٹوٹ جائے گا، پس سائل کو  چاہیے کہ وضو  میں  چہرے پر  ہاتھ  ملنے کے بجائے صرف پانی بہانے پر اکتفا  کیا کرے، تاکہ دانوں سے خون جاری نہ ہو۔ بہرصورت خون اگر نکل جاتاہے تو خون بند ہونے کے بعد وضو کا اعادہ کرکے نماز ادا کرنی ہوگی۔

رد المحتار على الدر المختار میں ہے:

"(وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة)

بأن لايجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل.

(قوله: مفروضة) احترز به عن الوقت المهمل كما بين الطلوع والزوال فإنه وقت لصلاة غير مفروضة وهي العيد والضحى كما سيشير إليه، فلو استوعبه لا يصير معذورا وكذا لو استوعبه الانقطاع لا يكون برءا، أفاده الرحمتي (قوله: ولو حكما) أي: ولو كان الاستيعاب حكما بأن انقطع العذر في زمن يسير لا يمكنه فيه الوضوء والصلاة فلا يشترط الاستيعاب الحقيقي في حق الابتداء كما حققه في الفتح والدرر، خلافا لما فهمه الزيلعي كما بسطه في البحر، قال الرحمتي: ثم هل يشترط أن لا يمكنا مع سننهما أو الاقتصار على فرضهما؟ يراجع. اهـ.

أقول: الظاهر الثاني، تأمل. (قوله: في حق الابتداء) أي: في حق ثبوته ابتداء (قوله: في جزء من الوقت) أي: من كل وقت بعد ذلك الاستيعاب إمداد (قوله: ولو مرة) أي: ليعلم بها بقاؤه إمداد (قوله: وفي حق الزوال) أي: زوال العذر، وخروج صاحبه عن كونه معذورا (قوله: تمام الوقت حقيقة) أي: بأن لا يوجد العذر في جزء منه أصلا فيسقط العذر من أول الانقطاع؛ حتى لو انقطع في أثناء الوضوء أو الصلاة ودام الانقطاع إلى آخر الوقت الثاني يعيد؛ ولو عرض بعد دخول وقت فرض انتظر إلى آخره، فإن لم ينقطع يتوضأ ويصلي ثم إن انقطع في أثناء الوقت الثاني يعيد تلك الصلاة.

وإن استوعب الوقت الثاني لا يعيد لثبوت العذر حينئذ من وقت العروض. اهـ. بركوية، ونحوه في الزيلعي والظهيرية. وذكر في البحر عن السراج أنه لو انقطع بعد الفراغ من الصلاة أو بعد القعود قدر التشهد لا يعيد لزوال العذر بعد الفراغ كالمتيمم إذا رأى الماء بعد الفراغ من الصلاة."

(كتاب الطهارة، باب الحيض: مطلب في أحكام المعذور،  ١ / ٣٠٥،  ط : دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200702

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں