بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

چہرے کے دانے وغیرہ ختم کرنے کے لیے وظیفہ


سوال

میرا چہرہ دانوں سے بھر گیا ہے اور ان کے نشانات پڑ گئے ہیں ان کو ختم کرنے کے لیے کوئی وظیفہ بتا دیں۔

جواب

بصورتِ مسئولہ  مذکورہ امراض کے لیے چہرے یا جلدی امراض کے کسی ماہر مستند طبیب سے علاج کروائیں، ساتھ ساتھ مندرجہ ذیل آیت و دعا  کے وظیفہ کا اہتمام کرلیں،  اور پنج وقتہ نمازوں کا اہتمام کریں، نماز کے بعد بھی دعا کیا کریں، ان شاء اللہ  اللہ تعالی صحت عطا فرمائیں گے۔

ذیل میں درج آیت پڑھ کر حسبِ سہولت جتنا ہو سکے اپنے چہرے پر دم کرتی رہیں اور یہی آیت پانی پر بھی دم کرکے پیتی رہیں:

{وَ اَيُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهُ اَنِّيْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ} (پارہ:17، سورہ انبیاء، آیت:83)
ترجمہ: ’’اور ایوب کو دیکھو! جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ ’’مجھے یہ تکلیف لگ گئی ہے اور تو سارے رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے‘‘۔

اس کے ساتھ درج ذیل دعا سات مرتبہ پڑھ کر پنڈول مٹی پر دم کرکے اور تھوڑا لعابِ دہن اس مٹی پر ڈال کر سوکھی مٹی پیس کر دانوں پر لگادیں، دعا یہ ہے:

"بِسْمِ اللهِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا وَ يَشْفِيْ سَقِيمَنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا".

(از:اعمالِ قرآنی، ص:45، ط:البشری)

بخاری شریف میں ہے:

"عن عائشة رضي الله عنها:أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول للمريض: (‌بِسْمِ ‌اللَّهِ، ‌تُرْبَةُ أَرْضِنَا، بِرِيقَة بَعْضِنَا، يُشفى سقيمنا، بإذن ربنا)".

(كتاب الطب، باب: رقية النبي صلى الله عليه وسلم، ج:5، ص:2168، رقم الحديث:5413، ط:دار ابن كثير- دار اليمامة)

ریاض الصالحین میں ہے:

"عن عائشة رضي الله عنها: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا اشتكى الإنسان الشيء منه، أو كانت به قرحة أو جرح، قال النبي صلى الله عليه وسلم بأصبعه هكذا - ووضع سفيان بن عيينة الراوي سبابته بالأرض ثم رفعها - وقال «‌بِسمِ ‌اللهِ، ‌تُرْبَةُ أرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى بِهِ سَقِيمُنَا، بإذْنِ رَبِّنَا» متفق عليه".

(كتاب عيادة المريض....، باب ما يدعى به للمريض، ص:274، ط:دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144509100778

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں