بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

چھ ماہ کے حمل کے اسقاط کا حکم


سوال

چھ ماہ کے ناقص الاعضاء حمل کا اسقاط جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ 4ماہ کے بعد حمل میں اللہ تعالی کی طرف سےروح ڈال دی جاتی ہے، اور اس کے بعد وہ حمل زندہ بچے کے حکم میں ہوتاہے، اس کو ضائع  کرنا کسی زندہ انسان کو قتل کرنے کے مترادف ہوتاہے؛لہذا صورتِ مسئولہ میں چھ ماہ کےبعد حمل کو ضائع کرنااگرچہ ناقص الاعضاء ہو، قطعاجائز نہیں۔

فتاوی  عالمگیری میں ہے:

"امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم يخلق له عضو وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوما أربعون نطفة وأربعون علقة وأربعون مضغة كذا في خزانة المفتين.وهكذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الكراهية، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات، ٣٥٦/٥، ط:رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الذخيرة: ‌لو ‌أرادت ‌إلقاء ‌الماء ‌بعد ‌وصوله ‌إلى ‌الرحم قالوا إن مضت مدة ينفخ فيه الروح لا يباح لها وقبله اختلف المشايخ فيه والنفخ مقدر بمائة وعشرين يوما بالحديث اهـ."

(كتاب الحظر والإباحة، ٣٧٤/٦، ط:سعيد)

معارف القرآن میں مفتی شفیع رحمہ اللہ نے لکھاہے:

"بچوں کو زندہ دفن کردینا یاقتل کردینا سخت گناہِ کبیرہ اور ظلمِ عظیم ہے، اور چار ماہ کے بعد کسی حمل کو گرانابھی اسی حکم میں ہے،کیوں کہ چوتھے مہینہ میں حمل میں روح پڑجاتی ہے، اور وہ زندہ انسان کےحکم میں ہوتاہے۔"

(سورۃ التکویر، ص:682، ج:8، مکتبہ معارف القرآن)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144505102007

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں