بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

چھ مہینے رات یا دن رہنے والے علاقوں میں روزے کا حکم


سوال

اس شہر  کے بارے میں رمضان کا کیا حکم ہے جہاں چھ  مہینے دن اور چھ مہینے رات ہو تو وہاں روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ معتبر حوالہ سے جواب دیں!

جواب

واضح رہے کہ روزے کا آغاز  صبح صادق سے ہوتا ہے جس کا اختتام غروب آفتاب  پر ہوتاہے،  لہذا جن ممالک میں روزانہ صبح صادق و غروب آفتاب ہوتا ہو، ان ممالک کے باشندوں کے لیے اسی کے مطابق روزہ رکھنا اور افطار کرنا ضروری ہوگا، خواہ دن کا دورانیہ بیس بائیس گھنٹے طول ہی کیوں نہ ہو، غروب آفتاب سے قبل افطار کرنے کی صورت میں قضا و کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔

البتہ بسا اوقات دن غیرمعمولی طور پر لمبا ہونے کی وجہ سے روزہ رکھنے میں بہت تکلیف ہوتی ہے، خاص طور پر عمر رسیدہ اور کم زور انسانوں کے لیے روزہ رکھنا دشوار ہوجاتا ہے، تو ایسی صورت میں رمضان المبارک میں روزہ نہ رکھیں، بلکہ بعد میں جب موسم ہلکا اور برداشت کے قابل ہوجائے اور دن کے اوقات نسبتاً  کم ہوجائیں تو  قضا کرلیں۔

جن علاقوں میں ایک طویل عرصہ کا دن، پھر اسی طرح طویل عرصہ کی رات کا سلسلہ رہتا ہے، (جیسا کہ بلغاریہ وغیرہ میں چھ  مہینے کا دن اور چھ مہینے کی رات ہوتی ہے) تو وہاں روزہ رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس طرح نماز  کے اوقات کا اندازے  سے تعین کیا جاتا ہے، اسی طرح ماہ رمضان کی آمد اور روزے کی ابتدا اور انتہا  کے اوقات کو بھی متعین کیا جائے۔

سب سے آسان صورت یہ ہے کہ ایسے مقام کے باشندوں کو ان مقامات کے مطابق عمل کرنا چاہیے جو ان سے قریب ہیں اور وہاں معمول کے مطابق دن رات کی آمدورفت کا سلسلہ ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"[تَتِمَّةٌ]

لَمْ أَرَ مَنْ تَعَرَّضَ عِنْدَنَا لِحُكْمِ صَوْمِهِمْ فِيمَا إذَا كَانَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ عِنْدَهُمْ كَمَا تَغِيبُ الشَّمْسُ أَوْ بَعْدَهُ بِزَمَانٍ لَايَقْدِرُ فِيهِ الصَّائِمُ عَلَى أَكْلِ مَا يُقِيمُ بِنْيَتَهُ، وَلَايُمْكِنُ أَنْ يُقَالَ بِوُجُوبِ مُوَالَاةِ الصَّوْمِ عَلَيْهِمْ؛ لِأَنَّهُ يُؤَدِّي إلَى الْهَلَاكِ. فَإِنْ قُلْنَا بِوُجُوبِ الصَّوْمِ يَلْزَمُ الْقَوْلُ بِالتَّقْدِيرِ، وَهَلْ يُقَدَّرُ لَيْلُهُمْ بِأَقْرَبِ الْبِلَادِ إلَيْهِمْ كَمَا قَالَهُ الشَّافِعِيَّةُ هُنَا أَيْضًا، أَمْ يُقَدَّرُ لَهُمْ بِمَا يَسَعُ الْأَكْلَ وَالشُّرْبَ، أَمْ يَجِبُ عَلَيْهِمْ الْقَضَاءُ فَقَطْ دُونَ الْأَدَاءِ؟ كُلٌّ مُحْتَمَلٌ، فَلْيُتَأَمَّلْ. وَلَايُمْكِنُ الْقَوْلُ هُنَا بِعَدَمِ الْوُجُوبِ أَصْلًا كَالْعِشَاءِ عِنْدَ الْقَائِلِ بِهِ فِيهَا؛ لِأَنَّ عِلَّةَ عَدَمِ الْوُجُوبِ فِيهَا عِنْدَ الْقَائِلِ بِهِ عَدَمُ السَّبَبِ، وَفِي الصَّوْمِ قَدْ وُجِدَ السَّبَبُ وَهُوَ شُهُودُ جُزْءٍ مِنْ الشَّهْرِ وَطُلُوعُ فَجْرِ كُلِّ يَوْمٍ، هَذَا مَا ظَهَرَ لِي، وَاَللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ". ( كتاب الصلاة، مَطْلَبٌ فِي طُلُوعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، ١ / ٣٦٦، ط: دار الفكر)

وفیه أیضًا:

"قَالَ الرَّمْلِيُّ فِي شَرْحِ الْمِنْهَاجِ: وَيَجْرِي ذَلِكَ فِيمَا لَوْ مَكَثَتْ الشَّمْسُ عِنْدَ قَوْمٍ مُدَّةً. اهـ. ح. قَالَ فِي إمْدَادِ الْفَتَّاحِ قُلْت: وَكَذَلِكَ يُقَدَّرُ لِجَمِيعِ الْآجَالِ كَالصَّوْمِ وَالزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَالْعِدَّةِ وَآجَالِ الْبَيْعِ وَالسَّلَمِ وَالْإِجَارَةِ، وَيُنْظَرُ ابْتِدَاءُ الْيَوْمِ فَيُقَدَّرُ كُلُّ فَصْلٍ مِنْ الْفُصُولِ الْأَرْبَعَةِ بِحَسَبِ مَا يَكُونُ كُلُّ يَوْمٍ مِنْ الزِّيَادَةِ وَالنَّقْصِ كَذَا فِي كُتُبِ الْأَئِمَّةِ الشَّافِعِيَّةِ، وَنَحْنُ نَقُولُ بِمِثْلِهِ إذْ أَصْلُ التَّقْدِيرِ مَقُولٌ بِهِ إجْمَاعًا فِي الصَّلَوَاتِ اهـ". ( كتاب الصلاة، مطلب في فاقد وقت العشاء كأهل بلغار، ١ / ٣٦٥، ط: دار الفكر)۔ فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109201317

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں