بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ذو الحجة 1443ھ 07 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

چرس پینا جب کہ اس سے نشہ نہ آتا ہو


سوال

چرس پینا کیسا ہے؟ جب  کہ  چرس پینے سے کوئی خاص نشہ نہ آتا ہو،آدمی کا ذہن کام کرتا ہو، اور وہ اپنی اصل حالت میں رہے؟

جواب

چرس نشہ آور اشیاء میں سے ہے اور نشہ آور اشیاء کا استعمال شرعاً حرام ہے۔

مسلم شریف میں ہے:

"حدثنا يحيى بن يحيى قال: قرأت على مالك عن ابن شهاب عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن عائشة قالت: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن "البتع"؟ فقال: كل شراب أسكر فهو حرام".

(باب بيان أنّ كلّ مسكر خمر وأنّ كلّ خمر حرام)

مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:

"الجواب : گانجا، چرس، افیون، بھنگ یہ سب چیزیں ناپاک نہیں، ان کا کھانا تو حرام ہے؛ اس لیے کہ نشہ لانے والی ہیں یا نشے جیسے آثار و نتائج پیدا کرتی ہیں ۔۔۔ الخ

(کفایت المفتی، کتاب الاشربۃ، (13/256) ط: مکتبہ فاروقیہ)

نیز  چرس اور شراب میں پائی جانے والی علتِ حرمت یعنی نشہ آور ہونا دونوں میں  برابر ہے، اس لیے  چرس بھی  حرام ہے، البتہ شراب کی حرمت چوں کہ قطعی ہے؛ اس لیے اس میں حرمت شدید ہے، نیز شراب مطلقاً حرام ہے خواہ نشہ آور ہو یا نہ ہو، جب کہ چرس کی اتنی مقدار   پینا  حرام  ہے  جس سے  عام آدمی (غیر عادی) کو نشہ ہوجاتا ہو۔ جس شخص کو اس کی عادت ہوجائے، اس کے نشہ نہ آنے کا اعتبار نہیں ہے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4 / 38):

"(قوله: أو سكر من نبيذ ما) أي من أي شراب كان غير خمر إذا شربه لا يحد به إلا إذا سكر به، وعبر بما المفيدة للتعميم إشارة إلى خلاف الزيلعي حيث خصه بالأنبذة الأربعة المحرمة بناء على قولهما. وعند محمد ما أسكر كثيره فقليله حرام، وهو نجس أيضا قالوا: وبقول محمد نأخذ.

وفي طلاق البزازية: لو سكر من الأشربة المتخذة من الحبوب والعسل المختار في زماننا لزوم الحد اهـ نهر قلت: وما ذكره الزيلعي تبع فيه صاحب الهداية، لكنه في الهداية من الأشربة ذكر تصحيح قول محمد، فعلم أن ما مشى عليه هنا غير المختار كما في الفتح. وقد حقق في الفتح قول محمد إن ما أسكر كثيره حرم قليله وأنه لا يلزم من حرمة قليله أنه يحد به بلا إسكار كالخمر خلافا للأئمة الثلاثة، وأن استدلالهم على الحد بقليله بحديث مسلم «كل مسكر خمر» " وبقول عمر في البخاري " الخمر ما خامر العقل " وغير ذلك لايدل على ذلك؛ لأنه محمول على التشبيه البليغ كزيد أسد والمراد به ثبوت الحرمة، و لايلزم منه ثبوت الحد بلا إسكار، وكون التشبيه خلاف الأصل أوجب المصير إليه قيام الدليل عليه لغةً و شرعًا، و لا دليل لهم على ثبوت الحد بقليله سوى القياس ولا يثبت الحد به، نعم الثابت الحد بالسكر منه."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144206200209

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں