بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1444ھ 09 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

چرس اور ماویٰ کی خرید وفروخت اوران کے استعمال کا حکم


سوال

 چرس اور ماویٰ کی خرید اور فروخت  اور ان کا استعمال کرنا جائز ہےیا نہیں؟ شرعی طور پر  راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

چرس کی خرید و فروخت سے متعلق تفصیل یہ ہےکہ فی الجملہ چوں کہ اس کا استعمال ادویہ میں بھی ہوتا ہے، اس لئے  ادویہ میں استعمال ہونے کی بنا پر اس کی خرید و فروخت جائز ہے اور اس  مقصد کے لیےاس کی کاشت بھی جائز ہے،لیکن چرس ایسے شخص کو بیچنا جس کے بارے میں یقین ہو کہ وہ نشہ کے لیے استعمال کرے گا،تو اس کوبیچنا  جائز نہیں ہوگا اور نہ ہی نشہ کے لیے اس کا استعال جائز ہے۔

 اسی طرح ماویٰ   مضرِّ  صحت ہونے کی وجہ سے قانونی طور پر  اس کی خرید و فروخت سخت ممنوع ہے،  جس پر قانوناً سزا بھی دی جاتی ہے، لہذا حکومتی قانون کی پاس داری اور حفظانِ صحت کا لحاظ کرتے ہوئے  ماویٰ کھانے اور اس کے بیچنے سے احتراز کرنا چاہیے؛ تاکہ صحت بھی محفوظ رہے اور قانونی خلاف ورزی بھی نہ ہو۔

السنن الکبری میں ہے:

"عن أبي حازم عن عبد الله بن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كل مسكر حرام وما أسكر كثيره فقليله حرام."

(كتاب الأشربة،باب ما أسكر كثيره فقليله حرام،514/8،ط:دار الكتب العلمية)

 فتاوی شامی میں ہے:

"والحاصل أن جواز البیع یدور مع حل الانتفاع."

(باب بيع الفاسد،5 /69، ط:سعید)

العقود الدریة فی تنقیح الحامدیہ میں ہے:

"والثاني: أن الأصل في المضارّ التحريم والمنع ؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: «لا ضرر ولاضرار في الإسلام»، وأيضًا ضبط أهل الفقه حرمة التناول: إما بالإسكار كالبنج، وإما بالإضرار بالبدن كالتراب والترياق، أو بالاستقذار كالمخاط والبزاق، وهذا كله فيما كان طاهرًا."

(مسائل وفوائد شتى من الحظر والإباحة،مسألة أفتى أئمة أعلام بتحريم شرب الدخان ،2/ 332،ط. دار المعرفة)

مفتی اعظم ہندمفتی کفایت اللہ صاحب کفایۃ المفتی میں ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

"افیون ،چرس ،بھنگ یہ تمام چیزیں پاک ہیں اوران کادوامیں خارجی استعمال جائزہے،نشہ کی غرض سے ان کواستعمال کرناناجائزہے۔مگران سب کی تجارت بوجہ فی الجملہ مباح الاستعمال ہونے کے مباح ہے،تجارت توشراب اورخنزیرکی حرام ہے کہ ان کااستعمال خارجی بھی ناجائزہے۔"

(کفایت المفتی ،9/ 129،ط:دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307100373

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں