بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

چرس بیچنے کا حکم


سوال

چرس بیچنا حلال ہے یا نہیں؟

جواب

چرس کا استعمال  چونکہ ادویات میں بھی ہوتا ہے،لہذا کسی دوائی بنانے والے کے ساتھ اس کی خرید وفروخت کرنا فی نفسہ جائز ہے،البتہ جس شخص کے بارے میں غالب گمان  ہو کہ وہ چرس کو نشہ کے طور پر استعمال کرے گاتو چونکہ اس کا غلط استعمال کرنا (نشہ وغیرہ کے لیے) جائز نہیں تو ایسے شخص سے اس کی خرید وفروخت بھی جائز نہیں ہے۔

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"(وصح بيع غير الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون.

قلت: وقد سئل ابن نجيم عن بيع الحشيشة هل يجوز؟ فكتب لا يجوز، فيحمل على أن مراده بعدم الجواز عدم الحل

(قوله وصح بيع غير الخمر) أي عنده خلافا لهما في البيع والضمان، لكن الفتوى على قوله في البيع، وعلى قولهما في الضمان إن قصد المتلف الحسبة وذلك يعرف بالقرائن، وإلا فعلى قوله كما في التتارخانية وغيرها.

ثم إن البيع وإن صح لكنه يكره كما في الغاية وكان ينبغي للمصنف ذكر ذلك قبيل الأشربة المباحة، فيقول بعد قوله ولا يكفر مستحلها: وصح بيعها إلخ كما فعله في الهداية وغيرها، لأن الخلاف فيها لا في المباحة أيضا إلا عند محمد فيما يظهر مما يأتي من قوله بحرمة كل الأشربة ونجاستها تأمل."

(کتاب الاٗشربۃ،ج:6،ص:454،ط:سعید)

وفیہ اٗیضا:

"(و) جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره وقيل يكره لإعانته على المعصية ونقل المصنف عن السراج والمشكلات أن قوله ممن أي من كافر أما بيعه من المسلم فيكره ومثله في الجوهرة والباقاني وغيرهما زاد القهستاني معزيا للخانية أنه يكره بالاتفاق."

(کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج:6،ص:391،ط:سعید)

کفایت المفتی میں ہے:

"افیون ،چرس،بھنگ یہ تمام چیزیں پاک ہیں اور ان کا دوا میں خارجی استعمال جائز ہے،نشہ کی غرض سے ان کو استعمال کرنا ناجائز ہے،مگر ان سب کی تجارت بوجہ فی الجملہ مباح الاستعمال ہونے کےمباح ہے،تجارت تو شراب اور خنزیر کی حرام ہےکہ ان کا استعمال خارجی بھی ناجائز ہے۔"

(جلد :9،ص:129،ط:دار الاشاعت)

مشکوۃ المصابیح میں ہے:

"عن أم سلمة قالت: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كل مسكر ومقتر. رواه أبو داود."

(کتاب الحدود ،باب بیان الخمر ووعید شاربھا،ج:2،ص:1083،رقم الحدیث:3650،ط:مکتب الاسلامی بیروت)

الدر المختار میں ہے:

"والحاصل أن جواز البيع يدور مع حل الانتفاع مجتبى، واعتمده المصنف وسيجيء في المتفرقات."

(کتاب البیوع،باب البیع الفاسد ،ج:5،ص:69،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144408101116

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں