بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

چار رکعات والی نماز میں رکعات کی تعداد بھول جانا


سوال

چار رکعات والی نماز میں اکثر بھول جاتا ہوں کہ نماز پوری ہوئی یا نہیں، رہنمائی فرمائیں اس حوالے سے شرعی کیا مسئلہ ہے اور اس کا حکم کیا ہے?

جواب

اگر کوئی شخص نماز کے دوران رکعات کی تعداد بھول جائے  اور اس کو یاد نہ ہو کہ اس نے چار رکعت پڑھی ہیں یا تین؟ تو اس کا حکم یہ ہے کہ:

1-  اگر  اس کا بھولنا پہلی مرتبہ ہوا ہے یا زندگی میں شاذ ونادر ایسا ہو تو  اسے نئے سرے سے نماز پڑھنا چاہیے۔

2- اگر شک ہوتا رہتا ہے اور رکعتوں کی تعداد بھولتا رہتا ہے تو پھر غالب گمان پر عمل کرنا چاہیے، یعنی جتنی رکعتیں غالب گمان سے اس کو یاد پڑیں، اسی قدر رکعتوں کے بارے میں  یہ خیال کرے کہ پڑھ چکا ہے، اگر اس حساب سے تین ہوچکی ہیں تو مزید ایک رکعت پڑھ کر نماز مکمل کرے اور سجدہ سہو کرے، اور اگر اس کے حساب سے چار رکعت ہوچکی ہیں تو آخر میں سجدہ سہو کرکے نماز مکمل کرلے۔

3- اور اگر غالب گمان کسی طرف نہ ہو تو کمی کی جانب اختیار کرے مثلاً کسی کو تین یا چار رکعت میں شک ہوجائے اور یہ شک پہلی مرتبہ نہ ہوا ہو اور غالب گمان کسی طرف نہ ہو تو اس کو چاہیے کہ تین رکعتیں شمار کرے اور ایک رکعت مزید پڑھ کر  نماز پوری کرے اور آخر میں سجدہ سہو بھی کرے۔ نیز اس صورت میں شک ہونے کے بعد والی ہر رکعت میں قعدہ بھی کرے، کیوں کہ مثلاً اگر تین رکعت اختیار کیں تو امکان موجود ہے کہ یہ چوتھی رکعت ہو، لہٰذا تیسری رکعت کے بعد بھی قعدہ کرے ، اسی طرح اگر ایک یا دو رکعت میں شک ہوجائے اور  کسی طرف رجحان نہ ہو تو ایک رکعت اختیار کرے، اس صورت میں ہر رکعت میں قعدہ بھی کرے، کیوں کہ اس نے جس رکعت کو پہلی شمار کیا ہے ممکن ہے کہ وہ دوسری رکعت ہو، اسی طرح تیسری رکعت میں امکان ہے وہ چوتھی رکعت ہو، جب کہ دوسری اور چوتھی رکعت میں تو قعدہ ویسے بھی ضروری ہے۔ بہرحال چوتھی رکعت کے بعد قعدہ کرکے سجدہ سہو بھی کرے۔

آخری دونوں صورتوں میں اگر سجدہ سہو کرنا بھول گیا  اور نماز کا وقت باقی ہے تو اس نماز کا اعادہ کرنا ضروری ہے، اور اگر نماز کا وقت گزرگیا ہو تو اب اعادہ کرنے کی تاکید کم ہے، البتہ اس نماز کا اعادہ کرلینا زیادہ بہتر ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 92):
"(وإذا شك) في صلاته (من لم يكن ذلك) أي الشك (عادة له)، وقيل: من لم يشك في صلاة قط بعد بلوغه، وعليه أكثر المشايخ، بحر عن الخلاصة، (كم صلى استأنف) بعمل مناف وبالسلام قاعداً أولى؛ لأنه المحل (وإن كثر) شكه (عمل بغالب ظنه إن كان) له ظن للحرج (وإلا أخذ بالأقل)؛ لتيقنه. 

(قوله: من لم يكن ذلك عادة له) هذا قول شمس الأئمة السرخسي واختاره في البدائع، ونص في الذخيرة على أنه الأشبه. قال في الحلية: وهو كذلك. وقال فخر الإسلام: من لم يقع له في هذه الصلاة واختاره ابن الفضل.

(قوله: وقيل إلخ) ثمرة الخلاف تظهر فيما لو سها في صلاته أول مرة واستقبل، ثم لم يسه سنين ثم سها، فعلى قول السرخسي يستأنف؛ لأنه لم يكن من عادته وإنما حصل له مرة واحدة والعادة إنما هي من المعاودة أي والشرط أن لايكون معتاداً له قبل هذه الصلاة، وكذا على قول فخر الإسلام، خلافاً لما وقع في السراج من أنه يتحرى كما يتحرى على القول الثالث، كما في البحر. وفي عبارة النهر هنا سهو فاجتنبه.
(قوله: كم صلى) أشار بالكمية إلى أن الشك في العدد، فلو في الصفة كما لو شك في ثانية الظهر أنه في العصر وفي الثالثة أنه في التطوع وفي الرابعة أنه في الظهر، قالوا: يكون في الظهر، ولا عبرة بالشك، وتمامه في البحر.
(قوله: استأنف بعمل مناف إلخ) فلايخرج بمجرد النية، كذا قالوا. وظاهره أنه لا بد من العمل، فلو لم يأت بمناف وأكملها على غالب ظنه لم تبطل إلا أنها تكون نفلاً ويلزمه أداء الفرض، ولو كانت نفلاً ينبغي أن يلزمه قضاؤه وإن أكملها؛ لوجوب الاستئناف عليه، بحر، وأقره في النهر والمقدسي.
(قوله: وإن كثر شكه) بأن عرض له مرتين في عمره على ما عليه أكثرهم، أو في صلاته على ما اختاره فخر الإسلام. وفي المجتبى: وقيل: مرتين في سنة، ولعله على قول السرخسي، بحر ونهر.
(قوله: للحرج) أي في تكليفه بالعمل باليقين.
(قوله: وإلا) أي وإن لم يغلب على ظنه شيء، فلو شك أنها أولى الظهر أو ثانيته يجعلها الأولى ثم يقعد لاحتمال أنها الثانية ثم يصلي ركعة ثم يقعد لما قلنا، ثم يصلي ركعةً ويقعد لاحتمال أنها الرابعة، ثم يصلي أخرى ويقعد لما قلنا، فيأتي بأربع قعدات قعدتان مفروضتان وهما الثالثة والرابعة، وقعدتان واجبتان؛ ولو شك أنها الثانية أو الثالثة أتمها وقعد ثم صلى أخرى وقعد ثم الرابعة وقعد، وتمامه في البحر وسيذكر عن السراج أنه يسجد للسهو". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144111200141

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں