بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1446ھ 16 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

چاررکعت والی فرض اور سنت نماز کے پہلے قعدے میں درود شریف پڑھنے کا حکم


سوال

1۔کوئی شخص اگر چار رکعت والی سنتِ غیر مؤکدہ کی دوسری رکعت میں تشہد کے بعد درود شریف پڑھے تو کیا وہ پڑھ سکتا ہے یا پڑھنے کی صورت میں سجدۂ سہو لازم آئے گا؟

2۔اسی طرح چار رکعت والی فرض نماز یا سنتِ مؤکدہ کی دوسری رکعت میں تشہد کے بعد درود شریف پڑھنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

1۔سنتِ غیر مؤکدہ  اور نوافل کی ہر دو رکعت مستقل نماز ہوتی ہے، لہٰذا  چار رکعت والی سنتِ غیر مؤکدہ یا نفل کی نماز میں بہتر یہی ہے کہ  دوسری رکعت کے قعدے میں تشہد کے بعد درود شریف اور دعا پڑھی جائے، پڑھنے سے سجدۂ سہو لازم نہیں آئے گا، تاہم اگر دوسری رکعت کے قعدے میں تشہدکے بعد درود شریف اور دعانہیں پڑھی   توبلا کراہت نماز ادا ہوجائے گی اور سجدہ سہو بھی لازم نہیں آئے گا۔

2۔چار رکعت والی فرض نماز یا سنتِ مؤکدہ کی دوسری رکعت میں تشہد کے بعد کچھ نہ بڑھانا واجب ہے، لہٰذا درود شریف یا کوئی بھی دعا پڑھنا ممنوع ہے، اگر کسی نے اللهم صل على محمد یا اس کی مقدار کوئی چیز پڑھ لی تو اس پر سجدۂ سہو لازم آئے گا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

''(ولا يصلى على النبي - صلى الله عليه وسلم - في القعدة الأولى في الأربع قبل الظهر والجمعة وبعدها) ولو صلى ناسيا فعليه السهو، وقيل لا شمني (ولا يستفتح إذا قام إلى الثالثة منها) لأنها لتأكدها أشبهت الفريضة (وفي البواقي من ذوات الأربع يصلي على النبي) - صلى الله عليه وسلم - (ويستفتح) ويتعوذ ولو نذرا لأن كل شفع صلاة."

(كتاب الصلاة،  باب الوتر والنوافل، ج:٢، ص:١٦، ط:سعيد)

فتح القدیر میں ہے:

"(ولا يزيد على هذا في القعدة الأولى) ؛لقول ابن مسعود: علمني رسول الله - صلى الله عليه وسلم - التشهد في وسط الصلاة وآخرها، فإذا كان وسط الصلاة نهض إذا فرغ من التشهد وإذا كان آخر الصلاة دعا لنفسه بما شاء."

(كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ج:١، ص:٣١٥، ط:دارالفكر)

عمدۃ الفقہ میں ہے:

"فرض وتر اور سننِ مؤکدہ میں قعدۂ اولی میں تشہد پر کچھ نہ بڑھانا واجب ہے، اگر التحيات پورا کر کے اللهم صل على محمد یا اس کی مقدار کوئی چیز پڑھے گا تو واجب فوت ہو جائے گا اور سجدۂ سہو  لازم آئے گا، لیکن نوافل میں کچھ مضائقہ  نہیں۔"

(کتاب الصلاۃ، باب:نماز کی صفت کا بیان، فصلِ دوم:واجباتِ نماز، ج:2، ص:99، ط:زوار اکیڈمی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507100014

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں