بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 شوال 1443ھ 25 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

چار بیٹے اور دو بیٹیوں میں تقسیم میراث


سوال

میرے والدین کا انتقال ہوا  ، ورثا ء میں   چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ،  والد کے ترکہ میں ایک مکان ، ایک دکان اورگودام ہے ،والد کے انتقال کے بعد دکان اورگودام کا کرایہ تمام ورثا کی رضامندی  سے والدہ لیتیں تھیں ،  والدہ کے انتقال کے بعد آٹھ سال تک بھائی کرایہ ا لیتے رہے ،  بہنوں کو کچھ حصہ نہیں دیا ،  اب پچھلے تین سال سے کرایہ میں سے  بہنوں  کو بھی  حصہ دے رہے  ہیں اور مکان میں ایک بھائی نے ایک پورشن الگ کرکے کسی اور کو رہنے کے لیے دیا ہے ،  جبکہ ایک بہن کی مالی حالت کمزور ہے ، جس کی وجہ سے اس کا مطالبہ ہے کہ وہ جگہ ہمیں  رہنے کے لیے دی جائے یا پھر تمام جائیداد کی تقسیم کر کے ہمیں اپنا حصہ دیا جائے.

سوال یہ ہے کہ میراث میں ہر ایک وارث  کا کتنا حصہ بنتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں والد ین کے انتقال کے بعد سائلہ کے  بھائی اپنے والد کے مکان وغیرہ   کا جو کرایہ لیتے رہے ہیں ،  اس میں بہنوں کا بھی حق تھا ؛ لہذا جتنا عرصہ تک بھائیوں نے بہنوں کو کرایہ میں سے حصہ  نہیں دیا ، ان پر لازم ہے کہ وہ بہنوں کو سابقہ مدتوں کے کرایہ میں سے ان کا حصہ دے دیں ۔الا یہ کہ بھائی بہنوں سے  سابقہ مدت کاکرایہ معاف کر والیں یا  بہنیں خود    بھائیوں کو معاف کردیں ۔

اور  سائلہ کے والدکےترکہ کی  شرعی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ   سائلہ کے والد مرحوم کے ترکہ  میں سے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچ نکالنے  کے بعد ، اگر مرحوم پر کوئی قرض   ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد، اور   اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی مال  کے ایک تہائی میں اسے نافذ کرنے کے بعد ،باقی متروکہ جائیداد منقولہ و غیر منقولہ  کے کل  10 حصے کئے جائیں گے  ، جس میں سے ہر بیٹے کو      دو ، دو حصے  اور ہر ایک  بیٹی کو ایک ایک   حصہ ملے گا۔  

میت:   (والد) مسئلہ :10

بیٹابیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹی 
222211

            یعنی سو روپے میں سے ہر بیٹے  کو 20روپے  اور ہر ایک بیٹی کو10روپے ملیں گے۔

درر الحكام شرح مجلة الأحكام میں ہے  :

"( المادة 1073 ) ( تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم."

 (القواعد الکلیۃ/3/ 22/ط:دار الکتب العلمیۃ)

فتاوی شامی میں ہے:

"شركة ملك، وهي أن يملك متعدد) اثنان فأكثر (عينا) أو حفظا كثوب هبه الريح في دارهما فإنهما شريكان في الحفظ قهستاني (أو دينا) على ما هو الحق؛ فلو دفع المديون لأحدهما فللآخر الرجوع بنصف ما أخذ۔"

 (کتاب الشرکۃ:4/299،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"والربح في شركة الملك على قدر المال۔"

(مطلب فیما یبطل الشرکۃ:4/316،ط:سعید)

فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144304100863

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں