بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ذو الحجة 1445ھ 15 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

دعا میں وسیلہ /حدیث نبوی/ اور ایک حدیث سے متعلق سوال


سوال

1.کیا ہم دعا میں کسی شئے  یا  کسی شخصیت کا واسطہ دے کر اللہ سے مانگ سکتے ہیں ؟

2.آج کل ایک ٹرینڈ بنا ہوا ہے کہ ایک پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کرنے کا کہا جاتا ہے کہ اتنے دن بعد بشارت ملے گی، اگر پوسٹ کو روکا تو نقصان پہنچے گا ۔ اس بارے میں راہ نمائی فرمائیں کہ کیا کیا جائے ؟

3. میں یونی ورسٹی کا طالب علم ہوں ،ایک  لیکچر کے دوران ایک ٹیچر نے کہا کہ ایسی کوئی حدیث نہیں ہے کہ   جس میں  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوکہ :" اگر  میرے بعد کوئی نبی ہوتا،تو وہ عمر ہوتے،اس بارے میں مدلل راہ نمائی فرمائیں ۔

جواب

(1) توسل کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں: 1) توسل بالاعمال یعنی اپنے کسی نیک عمل کے وسیلے سے یوں دعا کرنا کہ اے اللہ! فلاں عمل کی برکت سے میری فلاں حاجت پوری فرما. یہ صورت بالاتفاق وبلااختلاف جائز ہے، اور اس کی دلیل وہ مشہور اور صحیح حدیث ہے جس میں تین افراد ایک غار  میں پھنس گئے تھے ،اور تینوں نے اپنے نیک عمل کے وسیلے سے دعا کی، تو اللہ تعالی نے اس مصیبت سے انہیں نجات عطا فرمائی، (بخاری 1 /  493 قدیمی) 2) توسل بالذوات یعنی کسی نبی، صحابی یا کسی ولی سے اپنے تعلق کا واسطہ دے کر دعا کرنا، یہ صورت بھی جمہور اہل سنت والجماعت کے نزدیک جائز ہے، چناچہ قرآن کریم کی آیت سے ثابت ہے کہ :بنوقریظہ اور بنونضیر کے یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے آپ کے وسیلے سے فتح ونصرت کی دعا کیا کرتے تھے،(البقرۃ:89)خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فقرا ومہاجرین کے توسل سے دعا فرماتے تھے،(مشکوۃ : 2 / 447 قدیمی) اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ قحط سالی کے سال حضرت عباس رضی اللہ عنہ (جو اس وقت حیات تھے) کے وسیلے سے دعا فرماتے تھے، ( نیل الاوطار : 4 / 8 طبع مصر) البتہ کسی نبی یا ولی سے حاجت مانگنا شرک ہے۔

مزید تفصیل کے لیے مذکورہ لنک ملاحظہ کیجئے :

کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے دعا مانگی جا سکتی ہے؟

(2)واضح رہے کہ انسان کو نفع یا نقصان کا پہنچانے کا مالک صرف ایک ذات اللہ تعالیٰ کی  ہے ،وہ جسے چاہے فائد ہ پہنچائے اور جسے چاہے نقصان ،اس کے علاوہ کوئی بھی  انسان کو نفع نقصان نہیں پہنچاسکتا،لہذا کسی بھی پوسٹ کے بارے میں یہ بات پھیلانا کہ اس کو اگر پھیلایا تو خوشی ملے گی ،ورنہ نقصان ہوگا یہ بات سراسر غلط اور بے بنیاد میں ،اس کی کوئی اصل نہیں ہے ۔

قرآن کریم میں ہے:

"وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَؕ-وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ."(سورة الانعام، 17)

"اور اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف پہنچائیں تو اس کا دور کرنے والا سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں ،اور تجھ کو کوئی نفع پہنچائیں تو وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔"

(بیان القرآن، ج:1، ص:539، ط:رحمانیہ)

مسند احمد میں ہے:

"عن المغيرة بن شعبة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من حدث بحديث وهو يرى أنه كذب، فهو أحد الكذابين ."

(مسند الكوفيين، ج:30، ص:150،ط :مؤسسة الرسالة)

(3) سنن ترمذی کی روایت ہے کہ :

"لو كان نبي بعدي لكان عمر بن الخطاب ."

(اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے )۔

(باب في مناقب أبي حفص عمر بن الخطاب رضي الله عنه، ج:6، ص:56، ط:دار الغرب الاسلامي)

اور یہ حدیث انہی الفاظ کے ساتھ المعجم الکبیر میں بھی ہے ۔

لہذا لیکچرار کا یہ کہنا کہ ایسی کوئی حدیث نہیں، یہ بات غلط ہے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144410101096

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں