بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شعبان 1445ھ 27 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

چند سالوں سے قرض دی ہوئی رقم کی زکوٰۃ کا حکم


سوال

 جو رقم میں نے دو یا تین سال پہلے قرض حسنہ دی ہے، کیا اس پر زکوۃ واجب ہے؟  لیکن مجھے ابھی تک وہ رقم واپس ملی بھی نہیں ہے اور اس کے علاوہ میرے پاس اور کچھ بھی نہیں ہے!

جواب

واضح رہے کہ قرض پر دی ہوئی کی رقم  کی زکات  مالک (یعنی قرض دینے والے ) پر لازم ہوتی ہے، لیکن جب تک قرض وصول نہ ہو  اس وقت تک اس کی زکات  کی ادائیگی لازم نہیں ہوتی،البتہ قرض کی رقم کے وصول ہونے کے بعد گزشتہ تمام سالوں کی زکات  ادا کرنا لازم ہوتا ہے، اگر قرض پر دی ہوئی  رقم کی  زکات  پیشگی ادا کردی جائے  تو یہ بھی جائز ہے اور پھر قرض وصول ہونے کے بعد گزشتہ سالوں کی زکات ادا کرنا لازم نہیں ہوگا۔

صورتِ مسئولہ میں آپ  نے جو  رقم قرضِ  حسنہ کے طور پر دی ہے، اگر آپ کے پاس  اس کے علاوہ سونا، چاندی، مالِ تجارت اور نقد رقم نہیں ہے اور وہ قرض پر دی ہوئی رقم نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت)  کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو  اس کی زکات آپ پر واجب ہوگی، لیکن اس کی ادائیگی فی الحال لازم نہیں ہوگی، بلکہ جب یہ رقم وصول ہوجائے تب اس کی ادائیگی لازم ہوگی، اور وصولی کے بعد گزشتہ عرصے کی بھی زکات ادا کرنی ہوگی، گزشتہ سالوں کی زکات نکالنے میں ہر بعد والے سال میں سے پہلے سال کی زکات کو منہا کیا جائے گا، اگر اس طرح کرتے نصاب سے کم رقم بچ جائے تو پھر زکات لازم نہیں ہوگی۔

اور اگر مذکورہ رقم ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت سے کم ہے تو آپ پر اس رقم کی زکات واجب نہیں ہوگی۔

       فتاوی شامی میں ہے:

"(و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصاباً وحال الحول، لكن لا فوراً بل (عند قبض أربعين درهماً من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهماً يلزمه درهم.

 (قوله: عند قبض أربعين درهماً) قال في المحيط؛ لأن الزكاة لاتجب في الكسور من النصاب الثاني عنده ما لم يبلغ أربعين للحرج، فكذلك لايجب الأداء ما لم يبلغ أربعين للحرج. وذكر في المنتقى: رجل له ثلثمائة درهم دين حال عليها ثلاثة أحوال فقبض مائتين، فعند أبي حنيفة يزكي للسنة الأولى خمسة وللثانية والثالثة أربعة أربعة من مائة وستين، ولا شيء عليه في الفضل؛ لأنه دون الأربعين. اهـ".

 (2/ 305،  کتاب الزکاۃ،باب زکاۃ المال، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111201485

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں