بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1445ھ 21 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا چاند پر پہنچنا شرعاً جائز ہے؟


سوال

کیا چاند پر پہنچنا شرعاً جائز ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں  چاند پر پہنچنا  شریعت کے خلاف نہیں ہے، اس  لیے  یہ  جائز  ہے۔

"تفسیر الطبری"میں ہے:

"قوله تعالى:وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا ‌فِي ‌الأرْضِ ‌جَمِيعًا ‌مِنْهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ.

يقول تعالى ذكره: (وسخر لكم ما في السماوات) من شمس وقمر ونجوم (وما في الأرض) من دابة وشجر وجبل وجماد وسفن لمنافعكم ومصالحكم."

(ص:١٣،ج:٢٢،سورۃ الجاثية،الآية:١٣،ط:دار التربية والتراث)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

’’چاند،سورج تک پہنچ جانا نہ شرعاً ممنوع ہے،نہ عقلاً محال ہے،یہ دونوں چیزیں آسمان پر نہیں ہیں،بلکہ فلک میں ہے،فلک آسمان سے بہت نیچے ہے جو کہ ان سیاروں کا مدار ہے،اس میں یہ گردش کرتے ہیں۔‘‘

(ص:١٨٢،ج:٤،باب الفلکیات،ط:ادارۃ الفاروق)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502101056

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں