میرے باغ میں تین سو (300)ڈبے چیری کی پیداوارہوئی تھی اور میں نے سارے ڈبےمیں نے اپنے دوست واحباب کو تحفے میں دے دیے تھے اب اس کا عشر کس طرح ادا کروں؟
صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ باغ کی سیرابی بارش کے پانی سے ہوتی ہے ،تو اس باغ کی پیداوار میں سے دسواں حصہ، بطور عشر نکال کر مستحق زکات غرباء میں تقسیم کرنا ضروری ہےاور اگر نہر وغیرہ کے پانی سے محنت کرکے اس باغ کو سیراب کیا گیاتھا، تو پھر نصف عشر یعنی پیداور کا بیسواں حصہ نکالا جائے گا،لہذا ان ڈبوں کی قیمت کا حساب لگا کر اس کی مجموعی قیمت کا عشر یا نصف عشر (بیسواں حصہ) ادا کیا جائے۔لہٰذا سائل نے جب عشر یا نصف عشر والا حصہ بھی دوستوں میں تقسیم کردیا تو اب سائل کو اپنی طرف سے اتنی مقدار کی قیمت جو کھیت میں اگی ہے، وہ فقراء کو ادا کرنا لازم ہوگا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما زكاة الزروع والثمار وهو العشر."
(كتاب الزكاة، فصل زكاة الزروع والثمار، ج:2، ص:53، ط:دار الكتب العلمية)
وفیه أیضاً:
"ما سقته السماء ففيه العشر وما سقي بغرب، أو دالية ففيه نصف العشر."
(كتاب الزكاة،فصل شرائط فرضية زكاة الزروع، ج:2، ص:56، ط:دار الكتب العلمية)
وفیه أیضاً:
"ومنها أي من شرائط المحلية وجود الخارج حتى أن الأرض لو لم تخرج شيئا لم يجب العشر؛ لأن الواجب جزء من الخارج وإيجاب جزء من الخارج ولا خارج محال ومنها أن يكون الخارج من الأرض مما يقصد بزراعته نماء الأرض وتستغل الأرض به عادة فلا عشر في الحطب والحشيش والقصب الفارسي."
(كتاب الزكاة،فصل الشرائط المحلية، ج:2، ص:58، ط:دار الكتب العلمية)
وفیه أیضاً:
"فما سقي بماء السماء، أو سقي سيحا ففيه عشر كامل، وما سقي بغرب، أو دالية، أو سانية ففيه نصف العشر."
(كتاب الزكاة،فصل بيان مقدار الواجب من العشر، ج:2، ص:62، ط:دار الكتب العلمية)
فقط والله أعلم
فتوی نمبر : 144512101028
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن