بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

چچا کا بھتیجی کی وراثت والی زمین کو بیچنا


سوال

زید اور بکر دو بھائی ہیں دونوں نے طے کیا ہم میں سے جو پہلے فوت ہو جائے دوسرا اس کا ترکہ اس کے ورثاء میں شرعی طور پر تقسیم کردے اور دونوں نے ایک ہی مجلس میں اپنی بیٹیوں کو بلا کر وصیت کی کہ ہمارے مرنے کے بعد میں سے اپنا حصہ ضرور لینا بیٹیوں نے وصول کرنے کا وعدہ کر لیا، اب زید صاحب وفات پا گئے تو بکر نے متوفی بھائی کی اراضی اس کے ورثاء میں تقسیم کردی اور قرعہ اندازی سے تعیین بھی کردی بیٹیوں نے کہا بھائی ہمارا چونکہ مقروض ہے قرض کی ادائیگی تک زمین بھائی ہی کے قبضہ میں رہے بھائی کاشت کرے اور فصل اٹھائے، متوفی کی بیٹیوں میں سے ایک نے متعدد بار اپنے شوہر سے کہا کہ میں نے اپنا حصہ اپنے بھائیوں کو دیا میں نے ان سے اپنا حصہ نہیں لینا اور یہ بات اپنے بعض بیٹوں سے بھی کہی ایک بار بھائی بہن سے ملنے آیا بہن نے بھائی سے کہا میرے حصے کے دو ایکڑ ہیں ایک آپکا اور ایک بڑے بھائی کا ، یہ بغیر کسی جبر کے بغیر کسی ترغیب کے بہن نے اپنی رضا و رغبت سے بھائیوں کو دے رہی ہے ۔ تو کیا اس طرح کہنے سےیہ زمین بھائیوں کے لیے ہبہ ہوگئی یا نہیں ۔

متوفی کی یہی بیٹی شدید بیمار تھی  اور اس کے  علاج پر بہت زیادہ روپیہ خرچ ہوا تو اس کے چچا بکر اس مریضہ   کے پاس آئے اور اس سے کہا آب کے علاج پر بہت زیادہ روپیہ خرچ ہوا ہے، آپ کے شوہر بہت زیادہ مقروض ہو گئے ہیں اگر آپ اجازت دیں آپ کا حصہ بیچ کر اس کی رقم آپ کے شوہر کو دیدی جائے اس نے اجازت دیدی اور اس نے اپنے بھائیوں کے ہبہ سے رجوع نہیں کیا ، اب چچا مریضہ  کی زندگی میں فروخت نہ کرسکے مریضہ  کی وفات کے تقریباً سات ماہ بعد فروخت کرتے ہیں تو کیا مریضہ کی اجازت اس کی وفات کے بعد بھی موثر سمجھی جائے گی؟ اور چچا کا مریضہ کے ورثاء سے اجازت لیے بغیر یہ تصرف کرنا شرعاً کیسا ہے؟ اور اس زمین کے شرعاً وارث کون ہیں اور ان ورثاء کی اجازت کے بغیر زمین کے فروخت کرنے کا تصرف کیسا ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں زید کے ترکہ کی زمینیں جب تعیین کرکے تقسیم کر دی گئیں تو شرعاً  زید کے ورثاء زمین کے اپنے اپنے حصے کے مالک ہوگئے  اس کےبعد مذکورہ بیٹی  کا اپنا حصہ مشترک طور پر بغیر تعیین کیے اپنے دونوں بھائیوں کو ہبہ کرنا درست نہیں تھا ، لہذا مذکورہ بیٹی   ہی اس کی مالک قرار پائی اور بیٹی  کے انتقال کے بعد  چچا کے لیے  ورثاء کی اجازت  کے بغیر  اس کو بیچ کر شوہر کو قرضہ ادا کرنے کے لیے دینا ٹھیک نہیں بلکہ مذکورہ زمین مرحومہ بیٹی کے شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وهب اثنان دارا لواحد صح) لعدم الشيوع (وبقلبه) لكبيرين (لا) عنده للشيوع فيما يحتمل القسمة۔"

(كتاب الهبة، ص/697، ج/5، ط/سعید)

مرحومہ کی میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ کل ترکہ میں سے سب سے پہلے ان کے حقوق متقدمہ یعنی اگر ان پر کوئی قرضہ ہو تو اسے ادا کیا جائے،پھر اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی ماندہ ترکہ کے ایک تہائی سے اسے نافذکیا جائے، اس کے بعد باقی  جائیداد منقولہ وغیر منقولہ کے4 حصے کر کے مرحومہ کے شوہر کو 1 حصہ اور ہر بیٹے کو بھی ایک ایک حصہ ملے گا۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت: 4

شوہربیٹابیٹابیٹا
1111

یعنی 100 روپے میں سے مرحومہ کے شوہر کو 25 روپے اور ہر بیٹے کو 25،25 روپے ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144303100125

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں