بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 صفر 1444ھ 24 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

موبائل سے تصویر کشی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک (face book) واٹس ایپ (whatsapp) وغیرہ میں تصویر پر پسند کے تبصرے نائس (nice) اور دعائیہ کلمات لکھنا


سوال

موبائل میں تصویر کشی کا کیا حکم ہے؟

فیس بک (face book) وغیرہ میں تصویر پر کمنٹ (comment) میں نائس (nice)  وغیرہ یا دعائیہ کلمات لکھنا کیسا ہے؟

جواب

کسی شدید ضرورت کے بغیر جان دار  کی تصویر بنانا   حرام اور کبیرہ گناہ ہے،خواہ تصویر کسی بھی نوعیت کی ہو، کپڑے یا کاغذ پر بنائی جائے یا در و دیوار پر، قلم سے بنائی جائے یا کیمرے سے، چناچہ” مشکاۃ المصابیح“ کی ایک حدیثِ مبارک  میں  ہے:

"وعن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أشد الناس عذاباً يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله»".

(باب التصاویر: ج:2، ص:385 ط: قدیمي)

ترجمہ:” حضرت عائشہ ؓ  ، رسول کریمﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ  آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب لوگوں سے زیادہ سخت عذاب  ان لوگوں کو ہوگا جو تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی مشابہت اختیار کرتے ہیں“۔ (از مظاہر حق جدید)

مشکاۃ المصابیح کی ایک اور حدیثِ مبارک  میں ہے:

"عن عبد الله بن مسعود قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «أشد الناس عذاباً عند الله المصورون»" . 

( باب التصاویر: ج: 2، ص: 385،  ط: قدیمي) 

ترجمہ:،” حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریمﷺ  کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”اللہ تعالیٰ کے ہاں سخت ترین عذاب کا مستوجب، مصور (تصویر بنانے والا)ہے“۔(از مظاہر حق جدید)

مشکاۃ المصابیح کی ایک اور حدیثِ مبارک  میں ہے:

"عن ابن عباس قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «كلّ مصوِّر  في النار يجعل له بكلّ صورة صوّرها نفسًا فيعذبه في جهنم".

 (باب التصاویر: ج: 2، ص: 385،  ط: قدیمي)

ترجمہ: ”حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ  میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے  ہوئے سنا کہ” ہر مصور دوزخ میں ڈالا جائے گا، اور اس کی بنائی  ہوئی ہر تصویر کے بدلے ایک شخص پیدا کیا جائے گا جو تصویر بنانے والے کو دوزخ میں عذاب دیتا رہے گا“۔(از مظاہر حق جدید)

لہذا موبائل سے جاندار کی تصویر کھینچنا اور اسے سوشل میڈیا (social media)کے کسی بھی پلیٹ فارم پر چاہے فیس بک (face book)ہو یا واٹس ایپ (whatsapp)ہو یا کوئی  اور سوشل میڈیا ایپ ، اس پر اَپ لوڈ (upload)کرنا جائز نہیں ہے۔

جان دار کی تصاویر پر نائس (nice) وغیرہ جیسے پسند کے تبصرے کرنااور دعائیہ کلمات لکھنا گناہ کے کام کو پسند اور اس کی حوصلہ افزائی ہے، اس لیے یہ بھی جائز نہیں ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

" وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ " [سورة المائدة : 2]

ترجمہ :”  گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور اللہ تعالٰی سے ڈرا کرو، بلا شبہ اللہ تعالٰی سخت سزا دینے والے ہیں”۔ (از بیان القرآن)

فتاوٰی شامی میں  ہے:

"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال؛ لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ."

(کتاب الصلاۃ،باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیها:ج:1،ص:647، ط: سعید)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144402100560

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں