بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

چاک والی قیمص پہننا


سوال

آپ علیہ السلام یا صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین سےقمیص میں چاک بنانا ثابت ہے؟ اگرثابت نہیں ہے، تو یہ کن سے ثابث ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  لباس کے معاملہ میں شریعت نے چند اصولی  حدود وقيود متعين  كيے هيں، ان شرائط كي رعایت رکھتے ہوئے  اپنے ملک اور علاقہ کے اعتبار سے لباس پہننا جائز ہے، البتہ جو لباس  سنت سے ثابت ہو وہ مسنون کہلاتا ہے، اسی طرح جس لباس کو  علماء وصلحاء  استعمال کرتے ہوں وہ بھی پسندیدہ لباس شمار ہوتا ہے،لباس سے متعلق بنیادی اصول وضوابط کا خلاصہ درج ذیل ہے:

  1.  لباس اتنا چھوٹا اورباریک اورچست نہ ہو کہ وہ اعضاء ظاہرہوجائیں جن کا چھپانا واجب ہے۔
  2.  لباس ایسا نہ ہو جس میں کفار  و فساق کے ساتھ مشابہت ہو۔
  3.  لباس سے تکبروتفاخر ،اسراف اور نام ونمود کا اظہار مقصود نہ ہو۔
  4. مردوں کا لباس عورتوں کے مشابہ اور عورتوں کا لباس مردوں کے مشابہ نہ ہو۔
  5.  مردوں کا لباس ٹخنوں سے اوپر، جب کہ عورتوں کا لباس ٹخنوں سے نیچے ہو۔ 
  6.  لباس نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف نہ ہو، مثلاً: مرد حضرات کے لیے ریشمی کپڑے اور خالص سرخ یا زرد رنگ کا لباس وغیرہ۔

مذکورہ تفصیل کی رو سے سائل کے سوال کا جواب یہ ہے کہ   حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم  صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے قمیص پہننا ثابت ہے،لیکن ان کی  قمیصوں کے چاک دار  ہونے کا ثبوت نہیں ملتا، البتہ ہمارے  برصغیر پاک وہند کے علماء وصلحاء   چاک والی قمیص استعمال کرتے ہیں، اور اس میں لباس کے جواز کی  بنیادی شرائط پائی جاتی  اور ہر ملک کے باشندوں کے  رہن سہن  اور لباس میں   فرق ہوتا ہے،  اور  جس  لباس کی شریعت میں ممانعت نہ آئی ہو  اور  ان میں کفار وفساق سے تشبہ نہ ہو ،اور  صلحا ء اور علماء وہ لباس پہنتے ہوں تو  وہ لباس بھی  شرعاً  مستحسن وپسندیدہ شمار ہوتا ہے۔ 

مرقاة المفاتيح  میں ہے:

"(من تشبه بقوم) : أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم) : أي في الإثم والخير. قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار، ولما كان الشعار أظهر في التشبه ذكر في هذا الباب. قلت: بل الشعار هو المراد بالتشبه لا غير، فإن الخلق الصوري لا يتصور فيه التشبه، والخلق المعنوي لا يقال فيه التشبه، بل هو التخلق، هذا وقد حكى حكاية غريبة ولطيفة عجيبة، وهي أنه لما أغرق الله - سبحانه - فرعون وآله لم يغرق مسخرته الذي كان يحاكي سيدنا موسى - عليه الصلاة والسلام - في لبسه وكلامه ومقالاته، فيضحك فرعون وقومه من حركاته وسكناته ; فتضرع موسى إلى ربه: يا رب! هذا كان يؤذي أكثر من بقية آل فرعون، فقال الرب تعالى: ما أغرقناه ; فإنه كان لابسا مثل لباسك، والحبيب لا يعذب من كان على صورة الحبيب، فانظر من كان متشبها بأهل الحق على قصد الباطل حصل له نجاة صورية، وربما أدت إلى النجاة المعنوية، فكيف بمن يتشبه بأنبيائه وأوليائه على قصد التشرف والتعظيم، وغرض المشابهة الصورية على وجه التكريم."

(كتاب اللباس، الفصل الثاني،7/ 2782، ط: دارالفكر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144411101362

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں