بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے کا حکم


سوال

کیا بینک کی طرف سے حاصل کردہ کریڈیٹ کارڈ چیزوں کی خرید اور کیش ودڈرال  وغیرہ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟  جب کہ بینک خریداری پر اصل رقم کے ساتھ کچھ رقم سروس چارجز اور کیش ود ڈرال  پر سروس چارجز کے ساتھ FED فیس بھی وصول کرتا ہے۔

جواب

کسی  بھی معاملے کے حلال وحرام ہونے  کی بنیاد درحقیقت وہ معاہدہ ہوتا ہے جو فریقین کے درمیان طے پاتا ہے، کریڈٹ کارڈ لینے والا کریڈٹ کارڈ جاری کرنے والے اداروں کے ساتھ یہ معاہدہ کرتا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں لی جانے والی رقم واپس نہ کر سکا تو ایک متعین شرح کے ساتھ جرمانہ کے نام پر سود ادا کروں گا۔شریعت میں  جس طرح سود لینا حرام ہے اسی طرح اس کا معاہدہ کرنا بھی شرعاً حرام ہے، تو چوں کہ کریڈٹ کارڈ کی بنیاد ہی ایک ناجائز معادہ پر ہے، اس لیے کریڈٹ کارڈ(Credit  Card)بنوانا اور اس کا استعمال ہی درست نہیں ہے۔

لہٰذا کریڈٹ کارڈ بنوانے اور اس کے استعمال سے بالکلیہ اجتناب کیا جائے۔

الدر المختار میں ہے:

"هو لغة: مطلق الزيادة وشرعا .....(خال عن عوض) مشروط) ذلك الفضل (لأحد المتعاقدين) أي بائع أو مشتر."

(کتاب البیوع، ج:5، ص:170، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507100755

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں