بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شعبان 1445ھ 24 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

سی جی ایم سینسر لگے ہونے کی حالت میں وضو،غسل اور نماز کا حکم


سوال

ایک دوا بنانے والی کمپنی نے شوگر کے مریضوں کے لیے ایک مشین متعارف کروائی ہے،جس کو سینسر کا نام دیا ہے ،یہ سینسر بازو میں کہنی کے اوپر اور کندھے کے درمیان والے حصے میں لگایا جاتاہے ،اس کی ترکیبِ استعمال یہ ہوتی ہے کہ ایک پمپ نما چیز کے ذریعے بازو میں  لگادیا جاتاہے ،اس میں 1/2 پورہاتھ  کی انگلی کے پورے سے کچھ کم ایک سوئی لگی ہوتی ہے ،جو اس کو لگاتے ہی جسم میں لگ جاتی ہے۔

تصویر 1 میں سینسر کو جسم سے نکلنے کے بعد دیکھا یا گیا ہے ،تصویر 2 سینسر کو لگی ہوئی حالت میں اور تصویر 3 میں بازو کے اس حصے کو دیکھا یا گیا ہے ،سینسر نکالنے کے بعد اور جس جگہ سوئی چبھی ہے اس حصہ کو دائرہ بنا کر نشان دہی کردی گئی ہے ۔

ترکیب استعمال اور فائدہ :

جب یہ سینسر جسم کے حصے یعنی بازو میں لگادیا جاتاہے تو اس کے بعد 14 دن تک شوگر کے  مریضوں کو شوگر چیک کرنے کے لیے انگلیوں میں سے خون نکال کر چیک کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ،یہ سینسر لگانے کے دو دن بعد سے بالکل وہی رزلٹ دیتاہے جیساکہ عام شوگر ٹیسٹر ز دیتے ہیں ،البتہ اس کے فوائد میں یہ بات ہے کہ آپ 24 گھنٹے شوگر کی جانچ کر سکتے ہیں اپنے موبائل فون کو اس سینسر کے قریب لاکر یا پھر اس کے  ساتھ آئی ہوئی مشین کو اس کے قریب سے گزار کر ،اس میں مریضوں کو سہولت یہ رہتی ہیں کہ اگر خدانخواستہ ان کی شوگر تیزی سے نیچے آرہی ہوتی ہے ،جو کہ کافی خطرناک ہے تو اس پر نظر رکھنا آسان ہوجاتاہے اور بار بار انگلیوں کو زخمی کر کے خون چیک کرنے کی کوفت اور تکلیف سے بچا جاسکتاہے ،نیز اگر اس سینسر کو کسی  وجہ سے 14 دن سے پہلے اتار دیا تویہ سینسر بے کار ہوجاتاہے ،اور پھر نیا سینسر لگانا پڑتاہے ،اس سینسر کی قیمت تقریبا بارہ ہزار یا اس سے زائد ہے ۔

مسئلہ:

1- کیا اس کو پہن کر وضو ہوسکے گا،جب کہ وضو  والی جگہ پر یہ سینسر نہیں لگاہوتا،البتہ جسم میں سوئی ایک چبھی ہوتی ہے ،سینسر کو جسم سے نکال کر یہ بات بھی جانچ کی گئی ہے کہ خون وہاں سے باہر نہیں آتا ،تصویر 3 بازو کے اس حصے کی تصویر ہے ،جہاں سے سینسر اتارا گیا ہے ،اتارتے وقت اور اس کے بعد بھی خون کا کوئی قطرہ باہر نہیں آیا ہے، اور نہ ہی لگاتے وقت آتاہے ۔

2- سینسر لگے ہونے کی حالت میں نماز کا کیاحکم ہوگا؟

3- غسل فرض ہونے کی صورت میں شریعت کے مطابق غسل کا کیا حکم ہوگا؟کیا اس صورت میں سینسر کو اتار نا لازم ہوگا؟

جواب

1) صورتِ  مسئولہ میں شوگر سینسر کے لگانے سے اگر خون نہیں نکلتا تو صرف جسم میں سوئی چبھے رہنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في الدر وكذا ينقضيه علقة مصت عضوا وامتلأت من الدم لانها لو شقت يخرج منها دم سائل. "

(ج:١،ص: ٢٨٦، ط:سعيد)

2) سینسر لگے ہونے کی حالت میں نما زہوجائے گی ۔

3) سی جی ایم سینسر سے متعلق حاصل کردہ معلومات سے یہ بات واضح ہے کہ سی جی ایم سینسر نہ تو کوئی دواہے اور نہ اسے جسم پر لگانا علاج ہے ،بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہوتاہے کہ شوگر کی کیفیت کا اندازہ ہوتارہے، جب کہ شوگر معلوم کرنے کا یہی ایک ذریعہ نہیں ہے ،اور نہ شوگر کے ہر مریض کو یہ مشین استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ،بلکہ دیگر آلات بھی شوگر جانچنے کے میسر ہیں ،اس لیے عمومی حالات میں یہ سینسر لگانا شرعی حاجت یا ضرورت کے مرتبے تک نہیں پہنچتا ،بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ منفعت ،فائدہ یا سہولت کے درجے میں ہے۔

دوسری طرف فرض غسل میں سارے جسم پر پانی بہانا فرض ہے ،سوئی کے سرے کے برابر بھی جسم کا معمولی سا حصہ دھلنے سے رہ گیا ،تو فرض غسل نہ ہوگا،چناں چہ جسم پر اگر کوئی ایسی چیز لگی ہو جو جسم کی سطح تک پانی پہنچنے میں رکاوٹ ہو اور اسے جسم سے اتارنے مین حرج بھی  نہ ہو تاہو تو غسل فرض ہونے کی صورت میں اسے  جسم سے اتارنالازم ہے ورنہ غسل مکمل نہ ہوگا۔

در مختار میں ہے :

"يفرض (غسل) كل ما يمكن من البدن بلا حرج."

(كتاب الطهارة ج:١ ،ص: ١٥٢،ط:سعيد)

منیہ اور اس کی شرح غنیہ میں ہے:

"ولو بقي شيئ من بدنه لم يصبه الماء لم يكرج من الجنابة وان قل اي ولو كان ذلك الشي ء  قليلا بقدر راس ابرة."

 (ص:٤٤،ط: رشيديه)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"‌ولو ‌ألزقت ‌المرأة رأسها بطيب بحيث لا يصل الماء إلى أصول الشعر وجب عليها إزالته ليصل الماء إلى أصوله كذا في السراج الوهاج."

( ج:١،ص:١٣، ط: سعيد)

الجوہر النیرۃ میں ہے:

"‌ولو ‌كان ‌على ‌بدنه قشر سمك أو خبز ممضوغ متلبد وجب إزالته، وكذا الخضاب المتجسد والحناء."

(ج:١،ص: ١٠، ط: المتبعة الخيرية)

اس تفصیل کی روشنی میں یہ بات واضح و ثابت ہوجاتی ہے ،کہ غسل فرض ہونے کی صورت میں سی جی ایم سینسر جسم سے جداکرکے غسل کرنا فرض ہوگا۔

فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411100235

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں