بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی اور بچوں کا والد سے الگ رہائش کا مطالبہ کرنا


سوال

ایک آدمی کی پہلے دوبیویاں تھیں، ان دونوں سے اس کی اولاد تھی، دونوں بیویاں اور ان کی اولاد اکٹھے ایک ہی گھرمیں رہائش پذیر رہے، اتفاق سے دوسری بیوی فوت ہوگئی، جب کہ پہلی بیوی زندہ ہے تو اس شخص نے اب تیسری شادی کرلی۔ اب سوال یہ ہے کہ پہلی بیوی اور اس کے بچے اور دوسری بیوی کے بچے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں الگ الگ مکان یعنی حویلی، لیٹرین، غسل خانے بنواکردیں، جب کہ باپ کا کہناہے کہ تم پہلے اٹھارہ سال سے اکٹھے رہ رہے تھے، اب بھی اکٹھے رہو، ہاں اس نئی بیوی کے ساتھ تم رہنا پسند نہیں کرتے تواس سے الگ رہائش میں دے سکتاہوں۔ کیا پہلی بیوی اور بچوں کایہ مطالبہ شرعًا مناسب اوردرست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں شوہر کی شرعی و اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی دونوں بیویوں کو ایسی رہائش فراہم کرے جس میں وہ خود مختار ہو، کسی اور کا عمل دخل نہ ہو، تاہم شریعتِ مطہرہ نے اس معاملہ میں شوہر  کی حیثیت کی رعایت رکھی ہے کہ اسے اس کی  حیثیت سے زیادہ کا مکلف نہیں بنایا ہے، اگرشوہراتنی استطاعت نہیں رکھتا کہ پہلی بیوی اور بچوں کے مطالبے  پر انہیں مکمل طور پر جدا گھر  دے یا شوہر استطاعت رکھتاہے، لیکن بیوی متوسط یا عام خاندان سے تعلق رکھتی ہے تو کم از کم ایک ایسا جدا مستقل کمرہ دینا ہوگا جس  کا بیت الخلا، باورچی خانہ وغیرہ الگ ہو اور عورت کی ضروریات کو کافی ہوجائے، جس میں وہ اپنامال واسباب تالا لگا کر رکھ سکے، کسی اور کی اس میں دخل اندازی نہ ہو۔ اور اگر شوہر زیادہ  مال دار ہے اور اس کی استطاعت ہے کہ وہ مستقل طور پر علیحدہ گھر کا انتظام کرے  اور بیوی بھی شریف اور اعلی خاندان سے تعلق رکھتی ہے تو بیوی کو الگ گھر کے مطالبے کا حق ہوگا، لیکن شوہر کی حیثیت کو مدنظر رکھ کر درمیانے درجے کے گھر کا انتظام لازم ہوگا۔

حاصل یہ ہے کہ پہلی بیوی اور بچوں کے مطالبے پر انہیں اپنی حیثیت کے مطابق الگ رہائش فراہم کرنا شرعاً شوہر کی ذمہ داری ہے۔ البتہ  حسنِ معاشرت اور رہن سہن میں اصول اور قواعد سے زیادہ اخلاق اہمیت رکھتے ہیں، موقع محل کو دیکھتے ہوئے جانبین کو وسعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اس لیے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق میاں بیوی کے رشتے میں قانونی ضابطوں کی بجائے اخلاقی معیاروں کی پاس داری مطلوب ہے۔

بہشتی زیور میں ہے:

” گھر میں سے ایک جگہ عورت کو الگ کردے کہ وہ اپنا مال اسباب حفاظت سے رکھے اور خود اس میں رہے سہے اور اس کی قفل کنجی اپنے پاس رکھے، کسی اور کو  اس میں دخل نہ ہو، فقط عورت ہی کے قبضے میں رہے تو بس حق ادا ہوگیا، عورت کو اس سے زیادہ کا دعوی نہیں ہوسکتا، اور یہ نہیں کہہ سکتی کہ پورا گھر میرے لیے الگ کردو‘‘۔

(بہشتی زیور، بعنوان: رہنے کے لیے گھرملنے کا بیان، ص:333)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"تجب السكنى لها عليه في بيت خال عن أهله وأهلها إلا أن تختار ذلك".

 (الباب السابع عشر في النفقات 1/556، ط: ماجدية)

 فتاوی  شامی میں ہے:

"إن أمكنه أن يجعل لها بيتًا على حدة في داره ليس لها غير ذلك".

(مطلب في مسكن الزوجة 3/601، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144112201326

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں