بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی پچھلی شرمگاہ سے تسکین شہوت حاصل کرنا


سوال

کیا پیچھے کے راستے سے ہمبستری کرنے سے نکاح کو کچھ ہوتا ہے اور اس کا کیا حکم ہے اور اس سے بچنے کا طریقہ اور کتنا گناہ ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں پیچھے کے راستہ سے ہم بستری کرنا حرام ہے اور اللہ  کی رحمت سے دوری اور لعنت کے حق دار ہونے کا سبب ہے، اور حلال سمجھ کر کرنا کفر ہے، اگرچہ بیوی کی رضامندی ہی کیوں نہ ہو، لہذا تسکینِ شہوت کے حصول کے لیے حلال اور فطری راستہ اختیار کرنا چاہیئے، ، تاہم اگر کسی سے غلطی میں ایسا قبیل  فعل سرزد  ہوگیا ہو تو اس پر   صدق دل سے توبہ کرنا لازم ہوگا،البتہ اس سے   نکاح نہیں ٹوٹے گا۔

 سنن أبي داود میں ہے:

٢١٦٢ - "حدثنا هناد، عن وكيع، عن سفيان، عن سهيل بن أبي صالح، عن الحارث بن مخلد عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "ملعون من أتى امرأته في دبرها."

( كتاب النكاح، باب في جامع النكاح، ٣ / ٤٩٠، ط: دار الرسالة العالمية)

ترجمہ:" حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو شخص اپنی بیوی کی دبر (پاخانہ کے مقام) میں صحبت کرے اس پر لعنت ہے"۔

سنن الترمذی  میں ہے:

١١٦٥ - "حدثنا ‌أبو سعيد الأشج، قال: حدثنا ‌أبو خالد الأحمر ، عن ‌الضحاك بن عثمان، عن ‌مخرمة بن سليمان ، عن ‌كريب ، عن ‌ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا ينظر الله إلى رجل أتى رجلا أو امرأة في الدبر."

( أبواب الرضاع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء في كراهية إتيان النساء في أدبارهن، ٢ / ٤٥٧، ط: دار الغرب الإسلامي - بيروت)

ترجمہ:  "حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما فرماتے  ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ اس شخص کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا جو کسی مرد یا کسی عورت کی دبر میں صحبت کرے"۔

مسند الإمام أحمد بن حنبل میں ہے:

٢١٨٦٥ -"حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثنا حيوة، وابن لهيعة، قالا: حدثنا حسان، مولى محمد بن سهل، عن سعيد بن أبي هلال، عن عبد الله بن علي، عن هرمي بن عمرو الخطمي، عن خزيمة بن ثابت، صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " إن الله لا يستحيي من الحق، لا تأتوا النساء في أدبارهن."

( تتمة مسند الأنصار،  حديث خزيمة بن ثابت، ٣٦ / ١٨٩، ط: مؤسسة الرسالة)

ترجمہ:" حضرت خزيمة بن ثابت رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ  : " اللہ حق بتلانے سے نہیں شرماتا، عورتوں کے پاس پیچھے کے راستہ سے نہ آؤ"۔

شعب الإيمان للبيهقي  میں ہے:

٤٩٩٣ - "وبإسناده قال: أخبرنا معمر، عن ابن طاوس، عن أبيه قال. سئل ابن عباس عن الذي يأتي امرأته في دبرها فقال: هذا يسألني عن الكفر."

( السابع والثلاثون من شعب الإيمان "وهو باب في تحريم الفروج وما يجب من التعفف عنها، ٧ / ٢٧٦، ط: مكتبة الرشد للنشر والتوزيع بالرياض)

ترجمہ:"  حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو پیچھے کے راستہ سے اپنی بیوی سے تسکینِ شہوت کرتا ہو تو انہوں نے جواباً فرمایا کہ یہ تو کفر کے بارے میں مجھ سے سوال کرتا ہے؟"

سنن أبي داود میں ہے:

٣٩٠٤ -" حدَّثنا موسى بنُ إسماعيلَ، حدَّثنا حمادٌ، وحدَّثنا مُسَدَّدٌ، حدَّثنا يحيى، عن حمادِ بنِ سلمةَ، عن حكيمٍ الأثْرم، عن أبي تَميمَةَ عن أبي هريرة، أن رسولَ الله - صلَّى الله عليه وسلم - قال: "مَنْ أتى كاهِناً -قال موسى في حديثه:- فَصَدَّقَهُ بما يَقُولُ، -ثم اتفقا- أو أتى امرأةً -قال مسدَّدٌ: امرأته حائضاً أو أتى امرأةً- قال مُسَدَّدٌ: امرأتَه في دُبُرِهَا- فقد برِئ مِمَّا أنْزَلَ اللهُ على محمدِ." 

( كتاب الطب، باب في الكاهن، ٦ / ٤٨، ط: دار الرسالة العالمية)

ترجمہ:" حضرت  ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے   کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو کسی کاہن کے پاس آئے پھر جو وہ کہے اس کی تصدیق کرے، یا حائضہ عورت کے پاس آئے یا اپنی بیوی کے پاس اس کی پچھلی شرمگاہ میں آئے تو وہ ان چیزوں سے بری ہو گیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئیں ہیں۔"

السنہ لأبي بكر  بن الدلال میں ہے:

١٢٥١ - "قال: حدثنا أبو عبد الله، قال: ثنا عبد الرحمن قال، ثنا حماد يعني ابن سلمة، عن حكيم الأثرم، عن أبي تميمة، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «من أتى حائضا، أو امرأة في دبرها، أو كاهنا، فقد كفر بما أنزل الله على محمد صلى الله عليه وسلم."

( باب مناكحة المرجئة، ٤ / ٩٧، ط: دار الراية - الرياض)

ترجمہ:" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: " جو شخص حائضہ خاتون کے پاس آئے ( صحبت کرے) یا اپنی بیوی کے پاس اس کی پچھلی شرمگاہ کے راستہ سے آئے، یا کسی کاہن کے پاس آئے، تو  وہ  ان چیزوں کا منکر ہو گیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئیں ہیں" ۔

فيض القدير شرح الجامع الصغير میں ہے:

"قال الطيبي: تغليظ شديد ووعيد هائل كيف لم يكتف بكفره بل ضم إليه  بما أنزل على محمد صلى الله عليه وسلم وصرح بالعلم تجديدا والمراد بالمنزل الكتاب والسنة أي من ارتكب هذه المذكورات فقد بريء من دين محمد صلى الله عليه وسلم بما أنزل عليه وفي تخصيص المرأة المنكوحة في دبرها دلالة على أن إتيان الأجنبية سيما الذكران أشد نكيرا وفي تقديم الكاهن عليهما ترق من الأهون إلى الأغلظ اه. وقال المظهر: المراد أن من فعل هذه المذكورات واستحلها فقد كفر ومن لم يستحلها فهو كافر النعمة على ما مر غير مرة وليس المراد حقيقة الكفر."

( حرف الميم، ٦ / ٢٣، ط: المكتبة التجارية الكبري - مصر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310101509

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں