بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شوال 1443ھ 19 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

ساس کے ساتھ بدکاری سے بیوی ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے


سوال

ایک شخص اپنی ساس سے بدکاری کر لیتا ہے اور اپنی بیوی کو دو طلاقیں دیتا ہے ،عدت گزرنے کے بعد پھر وہ اپنی بیوی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہے ،تو آیا اس بیوی کے ساتھ دوبارہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی مرد اپنی ساس کے ساتھ زنا کرلے تو اس کی بیوی اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے، البتہ نکاح ختم کرنے  اور بیوی کے دوسری جگہ نکاح کرنے کے جائز ہونے کے لیے زبان سے الفاظ ادا کرکے بیوی کو نکاح سے نکالنا اور بیوی کا عدت گزارنا ضروری ہے، بصورتِ مسئولہ مذکورہ شخص نے طلاق دے کر بیوی کو نکاح سے خارج کردیا اور اس نے عدت گزار لی تو  وہ عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے، سابقہ شوہر سے نکاح کرنے کی قطعًا اجازت نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 32):

"(و) حرم أيضاً بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنا في الوطء الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لايمنع الحرارة (وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن)".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200466

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں