بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

کاروباری قرض کی بنا پر زکات لینا


سوال

 سوال کا مضمون زکوٰۃ کے حوالے سے ہے۔ ہم تین بھائی ہیں ،میں سب سے بڑا بھائی ہوں ، پہلے ہم تینوں بھائی ایک دکان میں ساتھ کام کرتے تھے ۔ دکان کرائے کی ہے ۔ کام ماشاءاللہ اچھا چل رہا تھا، کچھ اپنی غلطیوں اور لاپرواہی کی وجہ سے مثلاً حساب کتاب صحیح نہ رکھنا کبھی کر لیا کبھی نہیں اور کافی سارا ادھار مال کسٹمرز کو دینا اور ان میں سے کافی کسٹمرز ادھار واپس نہ کرتے اور بھاگ جاتے، کوئی کسٹمر پیسے دبا کر رکھتے واپس نا کرتے، اور گودام میں مال کی صحیح ریکارڈ نہ رکھنا اور ترتیب سے نہ رکھنا جس کی وجہ سے مال ضائع ہونا۔ 2018 میں حکومت کی طرف سے جب تجاوزات کے نام پر دکان وغیرہ توڑ رہے تھے اس وقت ہماری مارکیٹ بھی نشانے پر تھی ہماری مارکیٹ کے اطراف میں کافی دکانیں مسمار کردی گئیں اس میں ہمارے کچھ گودام بھی تھے ، ان گوداموں میں جو سامان دوسری جگہ منتقل کرنے میں کافی سامان ضائع ہوا۔ اسی دوران میرے سے چھوٹے والے بھائی نے فاسٹ فوڈ کا کاروبار کھولا اس لیے کہ ہماری دکان کو بھی مسمار نہ کردیں کیونکہ ہماری دکان ہی یہی ذریعہ معاش ہے ہمارے پاس الگ سے کوئی پیسے تھے نہیں جو تھا یہی دکان تھی ۔ اس دکان کی سیل سے اس فاسٹ فوڈ میں پیسے لگائے۔ تجاوزات میں دکان ہماری بچ گئی ۔ لیکن بھائی نے فاسٹ فوڈ کا کام بند نہیں کیا جاری رکھا اور فاسٹ فوڈ کام میں بھائی کو نقصان ہوا۔ چونکہ ہم نے دکان کی انویسٹمنٹ فاسٹ فوڈ میں لگائی تھی اس وجہ سے دکان پر بھی کافی اثر پڑا ۔ پیمنٹ، مال والوں کو نہ کرنے کی وجہ سے دوسرا مال ہمیں نہیں ملتا اس وجہ سے یہ دکان کافی خسارے کا شکار رہی ۔ والد صاحب نے چھوٹے بھائی سے فاسٹ فوڈ بند کرنے کو کہا لیکن اس نے بات نہیں مانی اور فاسٹ فوڈ کا کام جاری رکھا ،یہ سب وجوہات ہیں۔ اس نقصان کی وجہ سے مارکیٹ کے ہم کافی قرض دار ہوگئے تقریباً چالیس لاکھ کے آس پاس مارکیٹ کے مقروض ہوگئے۔ اس وجہ سے مارکیٹ میں نام بھی خراب ہوا ، کوئی مال ادھار نہیں دے رہا تھا ۔ مال والوں کے پیسے تو ادا کرنے تھے تو مجھ سے چھوٹے بھائی نے اپنی اہلیہ کا سونا اس کی رضامندی سے بیچا اور والدہ نے بھی سونا بیچا تو جو مال والے زیادہ تقاضا کررہےتھے ان کو پہلے فارغ کیا ۔ اب ہماری دکان میں پورا مال نہ ہونے کی وجہ سے دکان کا کرایہ نکالنا مشکل ہورہا تھا اخراجات پورے کرنے مشکل ہورہا تھا۔ 2019 میں میرے والد نے نوکری چھوڑ کر اپنا کاروبار شروع کیا ماشاءاللہ وہ اللہ کے فضل سے کافی اچھا چل رہا ہے والد صاحب کو معاونت کے لیے بندہ چاہیے تھا تو سب سے چھوٹے بھائی کو اپنے ساتھ لے لیا ۔ ابھی دکان میں اکیلا چلا رہا ہوں۔ فاسٹ فوڈ کا کام مجھ سے چھوٹے بھائی کے پاس تھا ۔ جو کمپنی والے مال دے رہے تھے ان کو تھوڑا تھوڑا کرکے میں بھی دے رہا تھا اسی دکان سے نکال کر اور والد صاحب بھی تھوڑا تھوڑا ادا کررہے ہیں۔ میں جب اکیلا ہوگیا دکان پر تو مارکیٹ کے ایک بندے نے مجھے پارٹنر شپ کی دعوت دی وہ میں نے قبول کرلی ۔ پھر ماشاءاللہ کام دوبارہ اچھا ہوگیا مال بھی میرے پاس تھا ۔ اس میں ایک غلطی مجھ سے یہ ہوگئی کہ میں اس پارٹنر شپ کی انویسٹمنٹ میں سے کچھ تھوڑا تھوڑا پرانے قرضے بھی ادا کررہا تھا کیونکہ وقت کافی گزر گیا تھا اور قرض دار کافی زیادہ تقاضا کررہےتھے اور طرح طرح کی دھمکیاں بھی دے رہے تھے تو اس ڈر کی وجہ سے میں دے رہا تھا ۔ باقی کچھ کمپنیوں کے ساتھ کام ابھی بھی چل رہا ہے الحمدللہ ،پچھلے پیسوں میں تھوڑا تھوڑا دے رہا ہوں ۔ پہلے ہم تینوں بھائی ساتھ رہتے تھے جب یہ قرض کے معاملات ہوئے تو گھر میں ناچاقی زیادہ ہونے لگی اس وجہ سے میں نے علیحدگی اختیار کرلی ۔ اب میں کرائے کے گھر پر رہتا ہوں ۔ہم میاں بیوی اور دو بچے۔ 2022 کے شروع میں دکان کا قرض چالیس لاکھ سے کم ہو کر پندرہ لاکھ کے اندر آگیا تھا۔ 2022 اگست میں پارٹنر شپ ختم ہوگئی ہے پارٹنر کا حساب کیا تو اس کے چودہ لاکھ کا حساب نکلتا ہے اب یہ پارٹنر کا اور پچھلا دکان کا قرض ملا کر پچیس تیس لاکھ کے آس پاس بنتا ہے ۔ اب تھوڑا تھوڑا کرکے ادا کررہا ہوں پارٹنر کو بھی اور دکان کا قرض بھی ۔ کچھ والد صاحب بھی کررہے ہیں ۔ مجھ سے چھوٹے بھائی کو پچس لاکھ کا نقصان اٹھانا پڑا فاسٹ فوڈ میں جب جاکر اس نے فاسٹ فوڈ کا کام بند کیا اب اس کے فاسٹ فوڈ والے قرض کی والد صاحب نے ذمہ داری لی ہے اور وہ بھائی والد صاحب کے پاس ملازمت کررہا ہے ۔ دونوں بھائی والد صاحب کے ساتھ کام کررہے ہیں یہ ساری صورت حال ہے ۔ میرے پاس ذاتی قیمتی چیز یا نقد پیسے الگ سے کوئی بھی نہیں ہے ۔ صرف یہ کہ جس کرائے کے گھر میں میں رہتا ہوں اس کو ایک لاکھ اسی ہزار روپے بطور ایڈوانس دیے ہیں ۔ یہ رقم بھی میں نے کمیٹی ڈال کر دی ہے جو ابھی تک چل رہی ہے 2024 میں مارچ میں ختم ہوگی ۔

1) میرا ایک سوال تو یہ ہےکہ 2023 کے شروع میں جنوری فروری میں میرے پاس دو سے تین لاکھ کا سامان تھا دکان میں۔ اسی پر میں اللہ کے فضل سے دکان بھی چلا رہا تھا اور گھر کے اخراجات بھی اسی سے چل رہے تھے 2023 میں رمضان میں مارچ کے مہینے میں میری ساس نے مجھے زکوٰۃ کی مد میں ایک لاکھ دیے تو کیا میں اس وقت زکوٰۃ کا مستحق تھا؟ اور وہ پیسے میں نے لے لیے مگر ذاتی استعمال نہیں کیے بلکہ اپنے پارٹنر کا قرض ادا کرنے میں دے دیے، کیا میری ساس کی زکوٰۃ ادا ہوئی کہ نہیں؟

2) اور اس وقت 2024 میں ، میں نے الحمدللہ مارکیٹ کا اعتماد دوبارہ حاصل کیا اور مارکیٹ والے الحمدللہ مجھے مال بھی دے رہے ہیں اور اس وقت میرے پاس اللہ کے فضل سے دس لاکھ کے آس پاس کا مال موجود ہے الحمدللہ ۔ لیکن یہ دس لاکھ کے آس پاس کا مال میں نے ادھار پر لیا ہے نقد نہیں اس کی پیمنٹ بطور چیک کچھ دنوں میں ادا کرنی ہے مجھے ۔ سب کو چیک دیے ہیں الحمدللہ چیک کلیئر بھی ہورہے ہیں مال بھی مل رہا ہے اور تھوڑا تھوڑا پچھلا قرض بھی ادا ہورہا ہے۔ اس وقت بیس لاکھ کے آس پاس پچھلا قرض رہ گیا ہوگا۔ اس صورت میں کیا میں زکوٰۃ کا مستحق ہوں یا مجھے زکوٰۃ دینی ہوگی؟

جواب

اگر کسی مسلمان کی ملکیت میں اپنی ضرورتِ اصلیہ (یعنی رہائشی گھر، کپڑے گھر کا سامان وغیرہ) کے علاوہ  ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے بقدر نقدی سامان وغیرہ نہیں ہے  اور وہ سید، ہاشمی نہیں ہے  تو وہ زکات کا مستحق ہے اور اس کے لیے زکات لینے کی اجازت ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کے پاس مال ہے لیکن وہ مقروض ہے اور قرض کی رقم منہا کرلینے کے بعد اس کے پاس اپنی ضرورتِ اصلیہ سے زائد نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر مال نہیں ہے تو ایسے شخص کو  زکات دینا نہ صرف جائز بلکہ اولیٰ اور بہتر ہے۔

1. صورت مسئولہ میں سنہ 2023 میں جب آپ کی ساس نے آپ کو زکات کی رقم دی اس وقت اگر آپ کے موجود سامانِ تجارت کی مالیت یعنی تین لاکھ سے زیادہ قرض تھا اور آپ کی ملکیت میں سونا چاندی نقدی وغیرہ بھی نہیں تھا تو آپ کے لیے زکات لینا درست تھا اور آپ کی ساس کی زکات ادا ہو گئی۔

2. جب آپ کے پاس دس لاکھ ادھار کا مال ہے اور اس کے علاوہ تقریباً بیس لاکھ کا قرض بھی ہے تو آپ اب بھی زکات کے مستحق ہیں اور آپ کے لیے زکات لینے کی اجازت ہے۔

نوٹ: یہ جواب اس صورت میں ہے کہ مذکورہ قرض ذاتی طور پر آپ پر ہو یعنی کاوربار کے مالک آپ ہوں، اگر کاروبار مشترک ہےمثلاً ابتداء میں بھائیوں وغیرہ نے مل کر کاروبار کے لیے سرمایہ اکٹھا کیا تھا  تو ہر کاروبار کا ہر شریک اپنے کاروبار میں اپنے حصے کے بقدر مقروض ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(منها الفقير) وهو من له أدنى شيء وهو ما دون النصاب أو قدر نصاب غير نام وهو مستغرق في الحاجة فلا يخرجه عن الفقير ملك نصب كثيرة غير نامية إذا كانت مستغرقة بالحاجة كذا في فتح القدير... (ومنها الغارم) ، وهو من لزمه دين، ولا يملك نصابا فاضلا عن دينه أو كان له مال على الناس لا يمكنه أخذه كذا في التبيين. والدفع إلى من عليه الدين أولى من الدفع إلى الفقير كذا في المضمرات."

(كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، 1/ 187، ط: رشيدية)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ومنها أن لا يكون عليه دين مطالب به من جهة العباد عندنا فإن كان فإنه يمنع وجوب الزكاة بقدره حالا كان أو مؤجلا."

(كتاب الزكاة، فصل: وأما شرائط الفرضية، 2/ 6، ط: سعيد)

وفيه أيضاً:

"(فصل) : وأما أموال التجارة فتقدير النصاب فيها بقيمتها من الدنانير والدراهم فلا شيء فيها ما لم تبلغ قيمتها مائتي درهم أو عشرين مثقالا من ذهب فتجب فيها الزكاة."

(كتاب الزكاة، فصل:وأما أموال التجارة 2/ 20، ط: سعيد)

الدر المختار میں ہے:

"(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك،... (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) سواء كان لله كزكاة وخراج أو للعبد، ... (و) فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم. وفسره ابن ملك بما يدفع عنه الهلاك تحقيقا كثيابه أو تقديرا كدينه (نام ولو تقديرا) بالقدرة على الاستنماء ولو بنائبه."

وفي الرد:

"(قوله نصاب) هو ما نصبه الشارع علامة على وجوب الزكاة من المقادير."

(‌‌كتاب الزكاة، 2/ 262 -259، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508100951

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں