بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 رجب 1444ھ 30 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

برش سے دانت صاف کرتے وقت نکلنے والے خون سے وضو ٹوٹنے کا حکم


سوال

برش سے دانت صاف کرتے وقت  کبھی کبھی معمولی سا خون آ جاتا ہے، اس سے وضو ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں برش وغیرہ سے دانت صاف کرتے وقت دانتوں یا مسوڑھوں سے آنے والا خون اگر تھوک پر غالب آجائے،اور تھوک کا رنگ سرخی مائل ہو،تو وضو ٹوٹ جائے گا،اور اگر  خون تھوک پر غالب نہ ہوا ہو،بلکہ تھوک میں معمولی سی زردی ہو،تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔

عمدۃ الفقہ میں ہے:

" اگر منہ یا دانتوں سے تھوک کے ساتھ خون مل کر آۓ تو اگر خون غالب ہے یا برابر ہے تو وضو ٹوٹ جاۓ گا ، اور اگر خون مغلوب اور تھوک غالب ہے تو اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا ، اور خون کے غالب ہونے کی علامت یہ ہے کہ تھوک کا رنگ گہرا سرخ ہوگا اور برابر ہو نے کی علامت یہ ہے کہ کم سرخ یعنی نارنجی رنگ کا ہوگا، اورخون کے مغلوب ہونے کی علامت یہ ہے کہ تھوک کا رنگ پیلا ہوگا ، خون کا غالب ہونااس کے بہنے والا ہونے پر دلالت کرتا ہے،اور برابر ہونے کی صورت میں احتیاطاً وضو کرے ،کیوں کہ غلبہ ظن یہ ہے کہ وہ خود بخود بہنے والا ہے۔"

(کتاب الطہارات، ج:1، ص:146،ط:زوار اکیڈمی)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن خرج من نفس الفم تعتبر الغلبة بينه وبين الريق فإن تساويا انتقض الوضوء ويعتبر ذلك من حيث اللون فإن كان أحمر انتقض وإن كان أصفر لا ينتقض كذا في التبيين.والمتوضئ إذا عض شيئا فوجد فيه أثر الدم أو استاك بسواك فوجد فيه أثر الدم لا ينتقض ما لم يعرف السيلان. كذا في الظهيرية."

(كتاب الطهارات، الباب الأول، الفصل الخامس في نواقض الوضوء، ج:1، ص:11، ط:دارالفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) ينقضه (‌دم) ‌مائع من جوف أو فم (غلب على بزاق) حكما للغالب (أو ساواه) احتياطا (لا) ينقضه (المغلوب بالبزاق).

وفي الرد:وعلامة كون الدم غالبا أو مساويا أن يكون البزاق أحمر، وعلامة كونه مغلوبا أن يكون أصفر بحر."

(كتاب الطهارة،باب الوضوء، ج:1، ص:138، ط:سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144404100876

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں