بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

برقعہ کی شرائط اور رنگین اور نقش و نگار والے برقعہ کا حکم


سوال

بعض عورتیں پردہ ایسی چادروں سے کرتی ہیں جن پر ڈیزائین وغیرہ بنائے گئے ہوں، کیا باہر ایسی چادروں یا ایسے عبایہ/برقعہ استعمال کرنے کی اجازت ہے؟ جس پر پھول اور دیگر قسم کے ڈیزائین اور نقش و نگار بنائے گئے ہوں۔

جواب

واضح رہے کہ  فقہاء کرام   کی تصریحات کے مطابق برقعہ درج ذیل شرائط پرپورا اترنا چاہیے،تبھی اس سے پردے کا مقصدحاصل ہوگا ورنہ نہیں:

۱- برقعہ سادہ ہو، اس میں نقش ونگار اور زیب وزینت نہ ہو،اور نہ ہی ایسا رنگ ہو جو جاذبِ نظر ہونے کی وجہ سے مردوں کی توجہ کا سبب بنے۔

            ۲- برقعہ چست نہ ہو کہ اس سے جسم کی ہیئت اور نشیب وفراز ظاہر ہو؛ بلکہ ڈھیلا ڈھالا ہو، جس سے جسم نمایاں نہ ہوتا ہو۔

            ۳- برقعہ باریک نہ ہو؛ جس سے جسم  یا جسمانی ساخت ظاہر ہو۔ 

            ۴- برقعہ اس قدر بڑا ہو جس میں جسم اچھی طرح چھپ جائے۔

            ۵- برقعہ مردوں کے لباس کے مشابہ نہ ہو، اسی طرح کافروں یا دین بیزار عورتوں کے فیشنی برقعہ کے مشابہ بھی نہ ہو؛ کیوں کہ ان لوگوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

            ۶- برقعہ پرمہکنے والی خوشبو بھی نہ لگائی جائے، جو مردوں کے لیے فتنے کا سبب بنے۔

لہذا صورت ِ مسئولہ میں عورتوں کے لیے باہر نکلنے کے وقت نقش ونگار سے مزین اور ایسا جاذبِ نظر برقعہ /عبایہ /چادر  پہننا جو نامحرموں کو اس کی طرف دیکھنے پر بر انگیختہ کرے ؛ جائز نہیں ہے، برقعہ  سادہ اور ڈھیلا ڈھالا ہونا چاہیے جس میں جسم یا اندر کا زنانہ لباس نظر نہ آئے اور اس سے اعضاء کی ساخت و ہیئت بھی ظاہر نہ ہو ، نیز رنگ بھی ایسا ہو جو دیکھنے والے کو مائل نہ کرے۔

حدیث پاک میں ہے:

"صنفان من أهل النار لم أرهما: قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس، ونساء كاسيات عاريات مميلات مائلات رؤوسهن كأسنمة البخت المائلة لايدخلن الجنة ولايجدن ريحها."

ترجمہ:"  جہنمیوں کی دوقسمیں ایسی ہیں جنہیں میں نے نہیں دیکھا، کچھ مردوں کےپاس گاۓ کی دموں جیسے کوڑے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے ( اوردوسری قسم ) اوروہ عورتیں جو کپڑے پہننے کے باوجود بھی ننگیں ہوں گی، وہ مائل ہونے والی اوردوسروں کو اپنی طرف مائل کرنے والی ہوں گی، ان کے سربختی اونٹوں کی کوہان جیسے اونچے ہوں گے، نہ تو جنت  میں داخل ہوں گی، اور نہ ہی اس کی ہوا کو  پائيں گي۔"

صحیح مسلم میں ہے:

"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « صنفان ‌من ‌أهل ‌النار لم أرهما: قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس، ونساء كاسيات عاريات، مميلات مائلات، رءوسهن كأسنمة البخت المائلة، لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها، وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا»."

(‌‌كتاب اللباس والزينة، ‌‌باب النساء الكاسيات العاريات المائلات المميلات، ج: 6، ص: 168، رقم: 2128، ط: دار الطباعة العامرة )

أحکام القرآن للجصاص میں ہے:

"وقوله تعالى: {ولا يضربن بأرجلهن ليعلم ما يخفين من زينتهن} روى أبو الأحوص عن عبد الله قال: "‌هو ‌الخلخال"، وكذلك قال مجاهد: "إنما نهيت أن تضرب برجليها ليسمع صوت الخلخال" وذلك قوله: {ليعلم ما يخفين من زينتهن} . قال أبو بكر: قد عقل من معنى اللفظ النهي عن إبداء الزينة وإظهارها لورود النص في النهي عن إسماع صوتها; إذ كان إظهار الزينة أولى بالنهي مما يعلم به الزينة، فإذا لم يجز بأخفى الوجهين لم يجز بأظهرهما; وهذا يدل على صحة القول بالقياس على المعاني التي قد علق الأحكام بها، وقد تكون تلك المعاني تارة جلية بدلالة فحوى الخطاب عليها وتارة خفية يحتاج إلى الاستدلال عليها بأصول أخر سواها. وفيه دلالة على أن المرأة منهية عن رفع صوتها بالكلام بحيث يسمع ذلك الأجانب; إذ كان صوتها أقرب إلى الفتنة من صوت خلخالها; ولذلك كره أصحابنا أذان النساء; لأنه يحتاج فيه إلى رفع الصوت والمرأة منهية عن ذلك، وهو يدل أيضا على حظر النظر إلى وجهها للشهوة; إذ كان ذلك أقرب إلى الريبة وأولى بالفتنة."

(‌‌ومن سورة النور، ‌‌باب الرجل يطلق امرأته طلاقا بائنا ثم يقذفها، ‌‌في إباء أحد الزوجين اللعان، ج: 3، ص: 412، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"وإن كان على المرأة ثياب فلا بأس بأن يتأمل جسدها وهذا إذا لم تكن ثيابها ملتزقة بها بحيث تصف ما تحتها، ولم يكن رقيقا بحيث يصف ما تحته، فإن كانت بخلاف ذلك فينبغي له أن يغض بصره اهـ. وفي التبيين قالوا: ولا بأس بالتأمل في جسدها وعليها ثياب ما لم يكن ثوب يبين حجمها، فلا ينظر إليه حينئذ... أقول: مفاده أن رؤية الثوب بحيث يصف حجم العضو ممنوعة ولو كثيفا لا ترى البشرة منه."

(‌‌كتاب الحظر والإباحة، ‌‌فصل في النظر والمس، ج: 6، ص: 366،365، ط: سعيد)

معارف القرآن میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہے:

" امام جصاصؒ نے فرمایا کہ جب زیور کی آواز تک کو قرآن نے اظہارِ زینت میں داخل قرار دے کر ممنوع کیا ہے ، تو مزین رنگوں کے برقعے پہن کر نکلنا بدرجہ اولی ممنوع ہوگا ۔"

(سورۃ النور، ج: 6، ص: 406، ط: ادارۃ المعارف کراچی)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"سوال:آج کل فیشنی مروجہ برقعہ جو ریشمی ہوتا ہے اور بدن سے چمٹا کر سیا جاتا ہے، ایسے برقعہ کا استعمال کرنا کیسا ہے؟

جواب:

"عورت کو اگر کسی ضرورت سے مکان سے باہر جانا ہی پڑے تو میلی کچیلی چادر اوڑھ کر اس طرح جائے کہ جسم پر بھی کسی کی نظر نہ پڑے اور لباس بھی جاذب نظر نہ ہو، فیشنی برقعہ جس کا سائل نے ذکر کیا ہے، خودمستقل جاذب نظر ہوتا ہے، حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ جو عورت مہکتی ہوئی خوشبو لگا کر مکان سے نکلتی ہے، وہ ایسی ایسی ہے، یعنی لوگوں کو بدکاری کی دعوت دیتی ہے، یہی حال قریب قریب فیشنی برقعہ کا ہے، لہذا اس سے اجتناب چاہیے، ایسا لباس استعمال کرنا جس سے بدن کی پوری ہیئت ظاہر ہوتی ہو، ہرگز جائز نہیں۔"

(باب الحجاب، ج: 24، ص: 335، ط: دار الافتاء جامعہ فاروقیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506101117

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں