بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

برما میں قرض کی ایک مروجہ صورت کا حکم


سوال

 اس وقت ہمارے ملک  "برما"  کے حالات انتہائی تشویشناک ہیں،  ملک کی معیشت  تباہی کے دہانے پر ہے، بالخصوص مسلم طبقہ کافی زبوں حالی کا شکار ہے،  ایک تو کرونا کی مہاماری ہے اور  پھر ملک میں عوام اور فوج کی جھڑپ کی وجہ سے ملک میں کافی پریشان کن حالات ہیں، ایسے حالات میں ملک کی عوام بالخصوص مسلم طبقہ کافی پریشان ہے نا تو کوئی کاروبار ہے اور ناہی روزگار کے مواقع،  لوگوں کی جمع پونجی ختم ہوچکی ہے اور تو اور دو وقت کی روٹی کھانا مشکل ہوگیا ہے،  ملکی بینکوں نے بھی لوگوں کی جمع شدہ رقم دینا بند کردی ہے۔ اب یہاں دریافت طلب امر یہ ہے کہ جو مال دار قسم کے لوگ ہیں، وہ غریب اور متوسط قسم کے لوگوں کی بینک میں جمع شدہ رقم کی ضمانت  لے کر ان کو کچھ کم رقم  دے دیتے ہیں،  مثلاً زید کے بینک میں دس لاکھ روپے جمع ہیں،  اب عمر زید سے یہ کہے کہ تمہارے بینک میں جو  دس  لاکھ روپے ہیں،  میں تمہیں ان کے بدلے نولاکھ روپے دےرہاہوں اور عمر اس بات کی بھی ضمانت لے کہ اگر وہ دس لاکھ روپے ملے تو میرے ہوں گے اور اگر ضائع ہوگئے، تب بھی میں ہی ذمہ دار ہوں گا ، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مال دار  افراد کا متوسط طبقے  کے افراد کو  مذکورہ طریقہ کار پر رقم فراہم کرنا درحقیقت  قرض دینا اور قرض کی وصولی کو بینک سے رقم ملنے پر موقوف رکھنا ہے،  مذکورہ طریقہ کار دو وجوہات کی وجہ سے شرعًا حرام ہے:

1۔ قرض دی گئی رقم سے زائد رقم کی وصولی کی شرط  سودی  شرط ہے۔

2۔قرض کی   وصولی بینک سے  ملنے پر موقوف رکھنے کی صورت میں قرض فراہم کی گئی رقم کے ڈوبنے یا زائد ملنے کے خطرے سے خالی نہیں، جو کہ عین قمار ( جوا) ہے۔

لہذا مذکورہ طریقہ کار کے مطابق عمل کرنے کی شرعًا اجازت نہ ہوگی۔

أحكام القران للجصاص میں ہے:

"وَ حَقِيقَتُهُ تَمْلِيكُ الْمَالِ عَلَى الْمُخَاطَرَةِ وَهُوَ أَصْلٌ فِي بُطْلَانِ عُقُودِ التَّمْلِيكَاتِ الْوَاقِعَةِ عَلَى الْأَخْطَارِ."

( المائدة: ٩٠، باب تحريم الخمر، ٤ / ١٢٧، ط: دار احياء التراث العربي)

احكام القران للجصاص میں ہے:

"وَ لَا خِلَافَ بَيْنَ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَحْرِيمِ الْقِمَارِ وَأَنَّ الْمُخَاطَرَةَ مِنْ الْقِمَارِ قَالَ ابْن عَبَّاسٍ إنَّ الْمُخَاطَرَةَ قِمَارٌ وَإِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يُخَاطِرُونَ عَلَى الْمَالِ وَالزَّوْجَةِ وَقَدْ كَانَ ذَلِكَ مُبَاحًا إلَى أَنْ وَرَدَ تَحْرِيمُهُ وَقَدْ خَاطَرَ أَبُو بَكْر الصِّدِّيقُ الْمُشْرِكِينَ حِينَ نزلت الم غُلِبَتِ الرُّومُ،وَ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زِدْ فِي الْخَطَرِ وَأَبْعِدْ فِي الْأَجَلِ، ثُمَّ حُظِرَ ذَلِكَ وَنُسِخَ بِتَحْرِيمِ الْقِمَارِ وَلَا خِلَافَ فِي حَظْرِهِ."

( البقرة: ٢١٩، باب تحريم الميسر، ٢ / ١١، ط: دار احياء التراث العربي)

فتاوی شامی میں ہے:

"[مَطْلَبٌ: كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا حَرَامٌ]

(قَوْلُهُ: كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا حَرَامٌ) أَيْ إذَا كَانَ مَشْرُوطًا كَمَا عُلِمَ مِمَّا نَقَلَهُ عَنْ الْبَحْرِ، وَعَنْ الْخُلَاصَةِ وَفِي الذَّخِيرَةِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ النَّفْعُ مَشْرُوطًا فِي الْقَرْضِ، فَعَلَى قَوْلِ الْكَرْخِيِّ: لَا بَأْسَ بِهِ وَيَأْتِي تَمَامُهُ."

(كتاب البيوع، باب المرابحة و التولية، فصل في القرض،٥ / ١٦٦، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210200722

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں