بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

برے شخص کا نکاح نیک سے ہوجانا کیا نیک شخص کے برے ہونے کی دلیل ہے؟


سوال

کہتے ہیں کہ  نیک مرد کے لیے نیک عورت اور بد کے لیے بد عورت ہے، لیکن اگر دونوں میں سے کوئی ایک نیک ہو لیکن دوسرا غلط کام کرے،تو کیا اس کایہ مطلب ہے کہ دونوں ہی غلط ہیں؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ جملے کی بنیاد دراصل قرآن کریم کی درجِ ذیل آیت ہے:

’‌’الْخَبِيثاتُ ‌لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثاتِ وَالطَّيِّباتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّباتِ.‘‘

(سورة النور،الآية:٢٦)

جس کاترجمہ یہ ہےکہ:

’’گندی عورتیں گندے لوگوں کے لائق ہوتی ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق ہوتے ہیں اور ستھری عورتیں ستھرے مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور ستھرے مرد ستھری عورتوں کے لائق ہوتے ہیں۔‘‘

اس آیت کی مفسرین کرام نے مختلف تفسیرات بیان کی ہیں،اکثرمفسرین نے جس رائے کو اختیار کیا ہے اس کاخلاصہ یہ ہے کہ بری باتیں اور برے کلمات برے لوگوں (مردوں اور عورتوں) کے لیے ہیں،اور برے لوگ(مرداور عورتیں)برے کلمات کے لیے ہیں،یعنی برے کام برے لوگ کرتےہیں،اور برائیاں (مذمت وغیرہ) کے مستحق بھی برے لوگ ہوا کرتے ہیں۔

دوسری ایک تفسیر مفسرین نے یہ بھی بیان کی ہے کہ خبیث عورتیں،خبیث مردوں کے لیے اور خبیث مرد،خبیث عورتوں کے لیے ہیں،اسی طرح نیک مرد وعورت ایک دوسرے کے لیے ہیں۔

اس تفسیر میں اولاً تو یہ بات واضح رہےکہ خبیث کی تفسیر فقہاء نے زنا سے بیان کی ہے،یعنی زانی مرد وعورت ایک دوسرے کے لیے ہیں،بالفرض اگر خبیث سے مطلق فسق وفجور مرادلے بھی لیاجائےتو بھی یہ حکم اغلبی(یعنی اکثر اوقات کے حساب سے ہے) یعنی یہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ہے کہ جو بھی برے مرد وعورت ہوں گے وہ نیک مرد و عورت کو مل ہی نہیں سکتے ،بلکہ کبھی کبھار اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ایسا ہو بھی جاتاہے۔

بہرحال اگر نیک مردوعورت اتفاق سے برے مرد وعورت کو مل جائےتو اس سے دوسرے نیک شخص کا برا ہونا ہرگز لازم نہیں آتا؛کیوں کہ اچھائی یا برائی کا مدار خوداپنے اعمال وافعال کے ساتھ ہے، دوسرے کے اعمال کے ساتھ نہیں ہے،تاہم اگر دونوں میں سے کوئی ایک غلط کام کرے تودوسرےکو اسےپیارومحبت سے سمجھاکرنیکی کی ترغیب دینی چاہیے۔

"القرآن الکریم"میں ہے:

"ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْن."

"اللہ تعالیٰ کافروں کے لئے نوح (علیہ السلام) کی بی بی کا اور لوط (علیہ السلام) کی بی بی کا حال بیان فرماتا ہے وہ دونوں ہمارے خاص بندوں میں سے دو بندوں کے نکاح میں تھیں۔"

"وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ."

"اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں (کی تسلی) کے لئے فرعون کی بی بی (حضرت آسیہ ) کا حال بیان کرتا ہے۔"

( سورة التحريم،الآية:١٠-١١)

معارف القرآن میں ان دو آیتوں کے ذیل میں حضرت مفتی شفیع صاحبؒ فرماتے ہیں:

’’ان سب مثالوں سے یہ واضح کردیا کہ ایک مومن کا ایمان اس کے کسی کا فرعزیز کے کام نہیں آسکتا اور ایک کافر کا کفر اس کے کسی مومن عزیز کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، اس لئے انبیاء و اولیا کی بیویاں اس پر بےفکر نہ ہوں کہ ہمیں ہمارے شوہروں کی وجہ سے نجات ہو ہی جائے گی اور کسی کافر ،فاجر کی بیوی یہ فکر نہ کرے کہ اس کا کفر میرے لئے کسی مضرت کا سبب بن جائے گا بلکہ ہر ایک مرد و عورت کو اپنے ایمان وعمل کی فکر خود کرنا چاہئے۔‘‘

(ص:٥٠٦،ج:٨،سورۃ التحریم،ط:مکتبہ معارف القرآن)

"التفسير المظهري"میں ہے:

"وقال ابن زيد الخبيثات من النساء للخبيثين من الرجال يعنى غالبا والخبيثون من الرجال للخبيثات من النساءوالطيبات من النساء للطيبين من الرجال والطيبون من الرجال للطيبات من النساء يعنى في الأغلب."

(ص:٤٨٥،ج:٦،سورۃ النور،الآية:٢٦،ط:مكتبة الرشدية)

"التفسیر المنیر"میں ہے:

"‌الخبيثات ‌للخبيثين والخبيثون للخبيثات والطيبات للطيبين والطيبون للطيبات. أي النساء الزواني الخبيثات للخبيثين من الرجال، والخبيثون الزناة من الرجال للخبيثات من النساء؛ لأن اللائق بكل واحد ما يشابهه في الأقوال والأفعال، ولأن التشابه في الأخلاق والتجانس في الطبائع من مقومات الألفة ودوام العشرة. وذلك كقوله تعالى: الزاني لا ينكح إلا زانية أو مشركة، والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك."

(ص:١٩٥،ج:١٨،سورۃ النور،الآية:٢٦،ط:دار الفكر)

"تفسیر ابن کثیر"میں ہے:

"قال ابن عباس: الخبيثات من القول للخبيثين من الرجال، والخبيثون من الرجال للخبيثات من القول. والطيبات من القول للطيبين من الرجال، والطيبون من الرجال للطيبات من القول...ووجهه بأن الكلام القبيح أولى بأهل القبح من الناس، والكلام الطيب أولى بالطيبين من الناس، فما نسبه أهل النفاق إلى عائشة هم أولى به، وهي أولى بالبراءة والنزاهة منهم."

(ص:٣٢،ج:٦،سورۃ النور،الآية:٢٦،ط:دار الکتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144502102213

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں