بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

برے خیالات سے بچنے کا وظیفہ


سوال

رات کو سوتے وقت وضو بھی کرتا ہوں، سورۃ الملک بھی پڑھتا ہوں، ذکر درود شریف بھی پڑھتا ہوں، لیکن پھر بھی بُرے خیال آتے ہیں، یہاں تک کہ ناپاکی ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے ڈر رہتا ہے کہ میں ان سب سے گناہ گا ہوتاجا رہا ہوں، اس حالت میں کیا حکم ہے کہ کیا میں کروں تو بُرے خیال نہ آئیں؟

جواب

برے خیالات  کا سب سے کار گر علاج یہی ہے کہ اس کی طرف بالکل بھی توجہ نہ دی جائے، نیز ان کو دور کرنے کے لیے "أعوذ بالله من الشیطان الرجیم"بکثرت پڑھیں، ارشادِ ربانی ہے :

﴿وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللهِ ‏اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴾ [الأعراف: 200]

اگر ان خیالات کی وجہ سے سائل کو احتلام کی شکایت ہے،تو اپنے آپ کو گندےمواد(ویڈیو،تصویریں وغیرہ) سے بچاتے ہوئے درج ذیل وظیفہ کا معمول بنائے۔

"1-   بستر پر جاتے وقت سورۂ 'و الطارق' پڑھ لیا کرے، تو   کبھی کثرتِ احتلام کا مرض نہیں ہوگا، اور اگر پہلے سے یہ مرض ہوگا تو  بالکل ختم ہوجائے گا۔"

(گنجینۂ اَسرار، ص:152، ط: بیت الحکمت، دیوبند)

حکیم الامّت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ بھی لکھتے ہیں:

"[سورۂ]'والسماء و الطارق'سوتے وقت پڑھنے  سے، احتلام سے حفاظت رہتی ہے۔"

(اعمالِ قرآنی، ص:109، ط: دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506102496

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں