بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شعبان 1445ھ 25 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

بلوغت کا وقت یاد نہ ہو تو قضا نمازوں اور روزوں کا حساب کیسے لگایا جائے؟


سوال

میں بالغ ہونے سے پہلے نمازیں پڑھ بھی لیتا تھا، اور چھوڑ بھی دیتا تھا، ایسے ہی روزوں کا حال ہے، یہی حال بلوغت کے بعد بھی رہا، مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ میں بالغ کب ہوا تھا، تقریباً 18 سال کی عمر کے بعد سے روزے اور نمازیں نہیں چھوڑیں، راہ نمائی فرما دیں کہ جو روزے اور نمازیں چھوٹی ہیں ان کا حساب کیسے لگاؤں؟ اور ان کو ادا کرنے کی کیا ترتیب بناؤں؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں اگر سائل کو یہ معلوم نہیں کہ وہ کب بالغ ہوا تو احتیاطاً اپنی بارہ سال عمر مکمل ہونے کے ساتھ ہی اپنے ذمہ نماز اور روزے،فرض سمجھ کر،یہ اندازہ لگالے کہ اس نے اپنی عمراٹھارہ سال مکمل ہونے تک،کتنی نمازیں پڑھی ہیں اور کتنی چھوڑی ہیں،اسی طرح یہ بھی کہ کتنے روزے رکھے ہیں اور کتنے نہیں رکھے،جس تعداد پر ظنِ غالب ہوجائے،اسی حساب سے دونوں چیزوں کی قضا کرنا شروع کردے،اور جب وہ تعداد پوری ہوجائے،تو قضا کرنا بند کردے۔

باقی،نمازوں کو ادا کرنے کی ترتیب یہ بنائی جاسکتی ہے،کہ ہر فرض نماز کے بعد،اپنے لگائے گئے حساب کے مطابق،آخری قضا ہونے والی نماز کی نیت کرکے،ایک،ایک قضا نماز  ادا کرتاجائے،یوں آسانی سے نمازیں ادا ہوتی جائیں گی،اور جہاں تک قضاکیے ہوئے روزوں کو رکھنے کی بات ہے،تو  اگر چہ ان کو پے درپے رکھنا ضروری تو نہیں ہے،لیکن پھر بھی بہتر یہ ہے کہ تنبہ ہوتے ہی،فوراً روزے رکھنے شروع کردیے جائیں،تاکہ سائل کا ذمہ جلد از جلد قضا روزوں سے فارغ ہوجائے۔

"ألدرالمختار مع رد المحتار"میں ہے:

"وأدنى مدته له اثنتا عشرة سنة ‌ولها ‌تسع سنين هو المختار...قوله: وأدنى مدته أي مدة البلوغ والضمير في له للغلام وفي لها للجارية."

(ص:154،ج:6،کتاب الحجر،فصل بلوغ الغلام بالاحتلام،ط:سعيد)

وفيه ايضا:

"هي فرض عين على كل مكلف...وتاركها عمدا مجانة أي تكاسلا فاسق."

(ص:357،ج:1،کتاب الصلاة،ط:سعيد)

وفيه ايضا:

"لو فاته صلاة الخميس والجمعة والسبت فإذا قضاها لا بد من التعيين لأن فجر الخميس مثلا غير فجر الجمعة، فإن أراد تسهيل الأمر، يقول أول فجر مثلا، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولا أو يقول آخر فجر، فإن ما قبله يصير آخرا، ولا يضره عكس الترتيب لسقوطه بكثرة الفوائت."

(ص:76،ج:2،کتاب الصلاة،باب قضاء الفوائت،ط:سعيد)

"حاشية الطحطاوي علي مراقي الفلاح"میں ہے:

"خاتمة من لا يدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء."

(ص:447،كتاب الصلاة،باب قضاء الفوائت،ط:دارالكتب العلمية)

"البحر الرائق"میں ہے:

"قوله: وقضيا ما قدرا بلا شرط ولاء:أي لا يشترط التتابع في القضاء لإطلاق قوله تعالى’’فعدة من أيام أخر‘‘ ... لكن المستحب التتابع وأشار بإطلاقه إلى أن القضاء على التراخي؛ لأن الأمر فيه مطلق وهو على التراخي كما عرف في الأصول ومعنى التراخي عدم تعين الزمن الأول للفعل ففي أي وقت شرع فيه كان ممتثلا ولا إثم عليه بالتأخير ويتضيق عليه الوجوب في آخر عمره في زمان يتمكن فيه من الأداء قبل موته ...وهذا بخلاف قضاء الصلوات فإنها على الفور ولا يباح التأخير إلا بعذر ذكره الولوالجي."

(ص:307،ج:2،كتاب الصوم،فصل في عوارض الفطر في رمضان،ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144410100584

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں