بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 رجب 1444ھ 31 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

بلڈنگ کی انتظامی کمیٹی کا مرمت وغیرہ کے لیے تمام فلیٹ مالکان سے ماہانہ رقم جمع کرنا


سوال

1:کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ علی گارڈن واقع سولجر بازار جو 72 فلیٹوں پر مشتمل ہے ، وہاں ہر فلیٹ کے مالک سے  مینٹنس کی مد میں ماہانہ  ساڑھے تین ہزار روپے لیے جاتے ہیں، جو بلڈنگ کمیٹی کے ارکان بلڈنگ کے انتظامی امور میں خرچ کرتے ہیں ،آیا مینٹنس کی مد میں  ماہانہ رقم جمع کرنا جائز ہے؟

2:جب کہ نئے آنے والے فلیٹ کے مالک سے ممبر شپ اختیار کرنے کی مد میں دس ہزار روپے جمع کیے جاتے ہیں تو یہ رقم جمع کروانا جائز ہے؟ جب کہ بلڈنگ کے قواعد و ضوابط میں یہ باتیں درج ہیں اور ان باتوں کو تحریری طور پر بلڈنگ کے مین گیٹ پر بورڈ کی شکل میں آویزاں بھی کیا گیا ہے ،تاکہ نئے آنے والے لوگوں کے علم میں آجائے ۔

جواب

1:صورتِ مسئولہ میں بلڈنگ کی کمیٹی کے ارکان  ہر فلیٹ کے مالک سے مینٹنس کی مد میں ماہانہ ساڑھے تین ہزار روپے جمع کرتے ہیں اور ان کو بلڈنگ کے انتظامی امور میں خرچ کرتے ہیں تو شرعًا ایسا کرنا جائز ہے ۔

2:صورتِ مسئولہ میں انتظامیہ والے  ہر نئے آنے والے فلیٹ کے مالک سے ممبر شپ اختیار کرنے کی مد میں دس ہزار لیتے ہیں ،جب کہ یہ ممبرشپ بھی خریدار  کے لیے لازمی ہوتی ہے،  لہذا اس طرح  یہ لینا درست  نہیں ہے، اس لیے کہ یہ رقم  کسی چیز کے عوض میں نہیں ہے۔

درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"المادة (1308) - (إذا احتاج الملك المشترك للتعمير والترميم فيعمره أصحابه بالاشتراك بنسبة حصصهم):إذا احتاج الملك المشترك للتعمير والترميم فيعمره أصحابه بالاشتراك بنسبة حصصهم سواء كان الملك مشتركا بين أكثر من مالك واحد أو مشتركا بين مالك ووقف أو كان قابلا للقسمة كالدار الكبيرة أو غير قابل للقسمة كالحمام والبئر فإذا كان الوقف شريكا في الملك فيدفع متولي الوقف حصة الوقف في المصرف بنسبة حصته والملك هنا أعم من ملك الرقبة وملك المنفعة. الخلاصة: إن نفقات الأموال المشتركة تعود على الشركاء بنسبة حصصهم في تلك الأموال حيث إن الغرم بالغنم كما جاء في (المادة 38) .

ويتفرع عن ذلك المسائل الآتية:1 - يقتضي الإنفاق مشتركا على تعمير الدار والحمام وبناء الحائط وتشييد السطح وكري النهر والحيوان وإصلاح القناة المشتركات."

الكتاب العاشر الشركات ،الباب الخامس في بيان النفقات المشتركة ،الفصل الأول في  بيان تعمير الأموال المشتركة وبعض مصروفاتها الأخرى،310/3،ط: دار الجيل )

کفایت المفتی میں ہے:

’’داخلہ کی فیس تو کوئی معقول نہیں، ماہوار فیس لی جاسکتی ہے۔‘‘

(کتاب المعاش،پہلا باب :نوکری ،اجرت ،کرایہ ، 313/7،ط: دار الاشاعت) 

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144310101100

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں