بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

بڑے جانورمیں پانچ آدمیوں کے قربانی کرنے کاحکم


سوال

میں اپنے گھر میں  قربانی کرنا چاہتا ہوں ، اور  اس کے لیےمیرے پاس سات حصہ کے  لیے لوگ پورے نہیں، کیا  میں ایسا کرسکتاہوں کہ  سات حصوں کے پیسے 5 حصوں میں تقسیم کردوں اور سات حصے کا گوشت بھی 5 حصے میں تقسیم کرلوں  ،یعنی 2 کے جو پیسے کم ہورہے ہیں ، وہ باقی 5 حصے والوں پر تقسیم کرلو ں اور اسی طرح گوشت بھی باقی 5 پر تقسیم کردو ں ،وہ جو دو حصے ہوں گے کسی کے نام کے نہیں ہوں گے، بس وہ زائد جس کو میں 5 حصوں پر برابر تقسیم کردوں گا؟  

جواب

جی ہاں!    بڑے جانور(گائے،اونٹ وغیرہ)میں  پانچ آدمی بھی شریک  ہوسکتے  ہیں، سات  افراد شریک ہونا  ضروری نہیں،لیکن شرط یہ ہے کہ کسی شریک کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہ ہو۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والبقر والبعير يجزي عن سبعة إذا كانوا يريدون به وجه الله تعالى، والتقدير بالسبع يمنع الزيادة، و لايمنع النقصان، كذا في الخلاصة."

 ( كتاب الأضحية، الباب الثامن فيما يتعلق بالشركة في الضحايا ج،5،ص،304،ط،رشيديه)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411102199

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں