بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 محرم 1446ھ 23 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

بڑے جانور میں دو حصے ڈال کر عقیقہ کرنا


سوال

 جیسے آ پ نے لکھا ہے کہ عقیقہ بڑے جانور کا بھی دے سکتے ہیں جیسے بھینس  کے 7 حصے کر کے تو کیا یہ کسی احادیث میں موجود ہے؟ 

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مکمل بڑے جانور (گائے،   بھینس ،اونٹ)سے بھی عقیقہ ہوسکتا ہے، ایک گائے یا اونٹ یابھینس میں  جس طرح  قربانی کے سات  حصے ہوتے ہیں اس طرح عقیقے کے لیے بھی ہوسکتے ہیں،  لہذا بڑے جانور میں لڑکے کے دو حصے اور لڑکی کا ایک حصہ ڈال کر بھی عقیقہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

المعجم الصغیر للطبرانی میں ہے:

"عن الحسن، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‌من ‌ولد ‌له ‌غلام فليعق عنه من الإبل أو البقر أو الغنم."

(‌‌باب من اسمه إبراهيم،١٥٠/١،ط:المكتب الإسلامي)

مجمع الزوائد میں یہ حدیث ہے:

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «‌من ‌ولد ‌له ‌غلام فليعق عنه من الإبل، والبقر، والغنم."

(‌‌باب العقيقة،٥٨/٤،ط:مكتبة القدسي)

فتح الباری میں ہے:

"والجمهور على ‌إجزاء ‌الإبل والبقر أيضا وفيه حديث عند الطبراني وأبي الشيخ عن أنس رفعه يعق عنه من الإبل والبقر والغنم ونص أحمد على اشتراط كاملة وذكر الرافعي بحثا أنها تتأدى بالسبع كما في الأضحية والله أعلم."

‌‌(قوله باب إماطة الأذى عن الصبي،٥٩٣/٩،ط: دار المعرفة)

فتاوی شامی میں ہے:

"يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعا على ما في شرح الطحاوي، وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئا أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك. وسنها الشافعي وأحمد سنة مؤكدة شاتان عن الغلام وشاة عن الجارية غرر الأفكار ملخصاً، والله تعالى أعلم".

 ( کتاب الاضحیۃ، ٣٣٦/٦،ط: سعید)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144412100095

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں