بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1444ھ 28 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

برطانیہ میں رؤیت ہلال اور سعودیہ،مراکش یا جنوبی افریقہ کی رویت کا اعتبار کرنا


سوال

براہ کرم چار سال کے چاند دیکھنے کے اعداد و شمار کے ساتھ ICOUK تنظیم کا منسلک تعارف ملاحظہ فرمائیں۔

ہم جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاون سے رہنمائی کی اپیل کر رہے ہیں ، کیونکہ آپ نے ماضی میں (۲۰۰۳) برطانیہ کے مسلمانوں کو مشورہ دیا تھا (حوالہ مفتی عبد الکریم دین پوری / مورخہ ۲۱ رمضان ۱۴۲۴ھ) کہ اگر برطانیہ میں ہلال نظر نہ آئے تو پھر قریب ترین اسلامی ملک کی رویت کو اختیار کیا جائے۔

الحمد للہ پچھلے دس سالوں سے چاند دیکھنے کے ہمارے عملی تجربے سے ہمیں پختہ یقین ملا ہے کہ اب برطانیہ میں ہلال کو دیکھنا مشکل نہیں رہا۔ہم آپ سے رہنمائی کی درخواست کرتے ہیں کہ آیا ہم اپنی مقامی رویت کا اعتبار کریں اور اسے اختیار کریں ؟

مزید براں ، براہ کرم مشورہ دیں کہ کیا ہمارے لیے دور دراز کے ممالک (مثلا سعودی عرب یا جنوبی افریقہ یا مراکش ) کی پیروی کرنا جائز ہے جبکہ شریعت کے احکام کے مطابق برطانیہ میں نیا چاند آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے؟

جواب

جواب سے قبل چند باتوں کا تمہید کے طور پر جاننا ضروری ہے:

۱) ہر ملک اور علاقہ میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ چاند دیکھنے کا اہتمام کریں اور اپنے ملک کی رویت پر اسلامی مہینوں کی ابتداء اور انتہاء کریں۔ ہر ماہ کی انتیس تاریخ کو چاند دیکھا جائے، چاند نظر آجائے تو نئے مہینے کی ابتداء کرلیں اگر نظر نہ آئے چاہے اس کی وجہ مطلع کا ابر آلود ہونا ہو یا کچھ اور وجہ ہو تو مہینہ کے تیس دن مکمل کر لیں اور اس کے بعد نیا مہینہ شروع کرلیں۔

۲)ہر وہ دو ملک جو آپس میں قریب قریب  ہوں  ایک دوسرے کی رویت کا اعتبار کرسکتے ہیں یعنی اگر ان میں سے ایک ملک میں چاند نظر نہ آئے اور  دوسرے ملک میں چاند نظر آنے کی خبر شرعی طریقہ پر  پہنچ جائے تو وہ اس قریب والے ملک کی رویت کا اعتبار کر کے نئے مہینہ کی ابتداء کرسکتے ہیں البتہ اگر دو ملک آپس میں دور دور ہو تو پھر ایک ملک دوسرے ملک کی رویت کا اعتبار نہیں کرسکتا۔

۳) قریب اور بعید ہونے کا معیار  فقہاء نے یہ بیان کیا ہے کہ جن بلاد میں اتنا فاصلہ ہو کہ ایک جگہ کی رویت دوسری جگہ اعتبار کرنے  کے نتیجہ میں مہینہ کے دن اٹھائیس رہ جائیں یا اکتیس ہوجائیں وہ بلاد بعیدہ کہلائیں گے اور جہاں اتنا فاصلہ نہ  ہو  وہ بلاد قریبہ کہلائیں گے۔(ماخوذ از جواہر الفقہ ص نمبر  ۴۸۲ ج نمبر  ۳)

لہذا صورت مسئولہ میں برطانیہ  میں مسلمان اپنی ہی رویت کا اہتمام کریں اور اپنے ملک میں رویت پر نئے ماہ کی ابتداء اور گذشتہ کی انتہاء کریں۔ بالفرض کبھی مطلع ابر آلود ہو تو تب بھی ۲۹ تاریخ کو دیکھنے کا اہتما م کیا جائے، نظر آجائے تو مہینے کی ابتداء کر لیں  ورنہ تیس دن پورے مکمل کر لیے جائیں۔ اور جب اپنے ملک  (برطانیہ ) میں رویت ممکن ہے تو اب دوسرے ممالک کی رویت کا اعتبار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

برطانیہ کے مسلمانوں پر اپنے ملک میں رویت کا اہتما م کرنے کے لیے تمام شرعی شرائط کی رعایت رکھنی ہوگی۔بنیادی شرائط    اور طریقہ کار مندرجہ ذیل ہیں:

۱)  امسلمان جو عاقل ، بالغ ، بینا اورعادل ہو وہ چاند دیکھنے کی قاضی یا رویت ہلال کمیٹی کے سامنے لفظ شہادت کے ساتھ چاند دیکھنے کی گواہی دے۔قاضی یا رویت ہلال کمیٹی کے سامنے حاضر ہونا ضروری ہے صرف ٹیلیفون یا کسی ذریعہ گواہی ارسال کرنے سے گواہی معتبر نہیں ہوگی۔ گواہ کے عادل نہ ہونے کی صورت میں قاضی یا رویت ہلال کمیٹی پر گواہی کا اعتبار کرنا واجب نہیں ہوگا بلکہ اس کو اختیار ہوگا کہ اگر وہ فاسق شخص کو اس معاملہ میں سچا سمجھتی ہے تو گواہی قبول کرے ورنہ گواہی ترک کردے۔

۲) اگر گواہ خود حاضر نہیں ہوسکتا تو وہ اپنی گواہی پر دو لوگوں کو گواہ بنائے اور وہ اس گواہ کی گواہی کو قاضی کے سامنے جا کر بیان کریں جس کو شرعی اصطلاح میں شہادت علی الشہادت کہا جاتا ہے۔

۳) رمضان کے چاند میں  مطلع صاف ہونے کی صورت میں جم غفیر کی گواہی ضروری ہے۔

۴) عیدین کے چاند میں مطلع صاف نہ ہونے کی صورت میں دو مرد یا ایک مرد دو عورتوں کی گواہی معتبر ہے اور مطلع صاف ہونے کی صورت میں جم غفیر کی گواہی ضروری ہے۔

۵) رمضان اور عیدین کے چاند کے علاوہ باقی نو مہینوں میں ہر صورت میں دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہی معتبر ہوگی۔

۶)رمضان کے چاند میں  جب مطلع صاف نہ ہو تو ایک ثقہ مرد یا عورت کی گواہی کافی ہے اور ماقبل کی شہادتوں کی طرح اس میں لفظ شہادت بھی ضروری نہیں ہے کیونکہ شریعت نے  اس کو خبر شمار کیا ہے نہ کہ شہادت لہذا ایک ثقہ  مرد اور عورت کی خبر دینا بھی کافی ہوگی۔ 

۷) پھر ان شرائط کے ساتھ خبروں پر اطمینان کر کے قاضی یا رویت ہلال کمیٹی ہلال کی رویت کا اعلان کردے اور اگر قاضی یا رویت ہلال کمیٹی پورے ملک کی ہو تو پھر یہ فیصلہ پورے  ملک کے لوگوں کے لیے معتبر ہوگا یعنی برطانیہ کے ایک شہر میں موجود رویت یلال کمیٹی کے نمائندہ نے رویت کی شہادتیں وصول کرکے فیصلہ کردیا تو اب یہ فیصلہ پورے ملک کے لوگوں کے لیے معتبر ہوگا۔ اور یہ فیصلہ کسی بھی جدید ارسال ترسیل کے آلات کے ذریعہ عام کردیا جائے تو وہ معتبر ہوگا۔(ماخوذ جواہر الفقہ ج نمبر ۳ ،رویت ہلال)

نیز یہ بات واضح رہے کی برطانیہ چونکہ غیر مسلموں کا ملک ہے وہاں مسلمان قاضی یا حکومت وقت کی طرف سے تشکیل شدہ رویت ہلال کمیٹی  بظاہرمشکل  ہے ،لہذا برطانیہ کے علماء اور صلحاء جس تنظیم یا کمیٹی کو اس کام کے لیے تشکیل دیں گے وہ رویت ہلال کمیٹی کے حکم میں ہوگی اور  وہ مندرجہ بالا شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی اور برطانیہ کے مسلمان اسی حساب سے اسلامی مہیوں کی ابتداء اور انتہاء شمار کریں گے۔

نیز یہ بھی واضح رہے کہ منسلکہ  تعارف میں جو یہ بات مذکور ہے کہ  تنظیم کی ویب سائٹ پر تین سو کے قریب رضا کار رجسٹرڈ ہیں اور وہ چاند دیکھ کر  اپنی رویت کی رپورٹ ویب سائٹ اوایپلیکیشن کے ذریعہ بھیجتے ہیں  تو یہ رپورٹس شرعا رویت ہلال کی شہادت کے لیے کافی نہیں ہیں بلکہ شرعی شہادت کے ثبوت کے لیے چاند دیکھنے والے شخص کا قاضی یا قاضی کا نائب یا کسی معتبر رویت ہلال کمیٹی کے نمائندہ کے سامنے شہادت دینا ضروری ہے (جیسا کہ ما قبل میں شرائط کے ضمن میں گزر چکا )  لہذا جب برطانیہ میں رویت ہلال کا سلسلہ شروع کیا جائے تو پھر رویت ہلال کی شہادت کے تمام شرعی تقاضوں کو بھی پورا کیا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(واختلاف المطالع) ورؤيته نهارا قبل الزوال وبعده (غير معتبر على) ظاهر (المذهب) وعليه أكثر المشايخ وعليه الفتوى بحر عن الخلاصة

إنما الخلاف في اعتبار اختلاف المطالع بمعنى أنه هل يجب على كل قوم اعتبار مطلعهم، ولا يلزم أحد العمل بمطلع غيره أم لا يعتبر اختلافها بل يجب العمل بالأسبق رؤية حتى لو رئي في المشرق ليلة الجمعة، وفي المغرب ليلة السبت وجب على أهل المغرب العمل بما رآه أهل المشرق، فقيل بالأول واعتمده الزيلعي وصاحب الفيض، وهو الصحيح عند الشافعية؛ لأن كل قوم مخاطبون بما عندهم كما في أوقات الصلاة، وأيده في الدرر بما مر من عدم وجوب العشاء والوتر على فاقد وقتهما وظاهر الرواية الثاني وهو المعتمد عندنا وعند المالكية والحنابلة لتعلق الخطاب عملا بمطلق الرؤية في حديث «صوموا لرؤيته» بخلاف أوقات الصلوات، وتمام تقريره في رسالتنا المذكورة۔"

(کتاب الصوم ج نمبر ۲ ص نمبر ۳۹۳،ایچ ایم سعید)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"وليس على أهل البلد الآخر قضاؤه لما ذكرنا أن الشهر قد يكون ثلاثين وقد يكون تسعة وعشرين، هذا إذا كانت المسافة بين البلدين قريبة لا تختلف فيها المطالع، فأما إذا كانت بعيدة فلا يلزم أحد البلدين حكم الآخر لأن مطالع البلاد عند المسافة الفاحشة تختلف فيعتبر في أهل كل بلد مطالع بلدهم دون البلد الآخر.

وحكي عن أبي عبد الله بن أبي موسى الضرير أنه استفتي في أهل إسكندرية أن الشمس تغرب بها ومن على منارتها يرى الشمس بعد ذلك بزمان كثير."

(کتاب الصوم ج نمبر ۲ ص نمبر ۸۳،دار الکتب العلمیہ)

سنن الترمذي  میں ہے:

"حدثنا علي بن حجر قال: حدثنا إسماعيل بن جعفر قال: حدثنا محمد بن أبي حرملة قال: أخبرني كريب، أن أم الفضل بنت الحارث، بعثته إلى معاوية بالشام قال: فقدمت الشام، فقضيت حاجتها، واستهل علي هلال رمضان وأنا بالشام، فرأينا الهلال ليلة الجمعة، ثم قدمت المدينة في آخر الشهر، فسألني ابن عباس، ثم ذكر الهلال، فقال: متى رأيتم الهلال، فقلت رأيناه ليلة الجمعة، فقال: أأنت رأيته ليلة الجمعة؟ فقلت: رآه الناس، وصاموا، وصام معاوية، قال: لكن رأيناه ليلة السبت، فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين يوما، أو نراه، فقلت: ألا تكتفي برؤية معاوية وصيامه، قال: لا، هكذا «أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم»: «حديث ابن عباس حديث حسن صحيح غريب، والعمل على هذا الحديث عند أهل العلم أن لكل أهل بلد رؤيتهم»۔"

(باب ما جاء لكل أهل بلد رؤيتهم ج نمبر ۳ ص نمبر ۶۷،مطبعہ مصطفی البابی الحلبی)

الفتاوى العالمكيرية  میں ہے:

"«يجب أن يلتمس الناس الهلال في التاسع والعشرين من شعبان وقت الغروب فإن رأوه صاموه، وإن غم أكملوه ثلاثين يوما كذا في الاختيار شرح المختار»۔"

(کتاب الصوم باب رویت ہلال ج نمبر ۱ ص نمبر ۱۹۷،دار الفکر)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"وأما الثاني: وهو بيان ما يعرف به وقته، فإن كانت السماء مصحية يعرف برؤية الهلال، وإن كانت متغيمة يعرف بإكمال شعبان ثلاثين يوما، لقول النبي - صلى الله عليه وسلم -: «صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته فإن غم عليكم فأكملوا شعبان ثلاثين يوما ثم صوموا» .وكذلك إن غم على الناس ‌هلال شوال أكملوا عدة رمضان ثلاثين يوما، لأن الأصل بقاء الشهر وكماله، فلا يترك هذا الأصل إلا بيقين على الأصل المعهود، أن ما ثبت بيقين لا يزول إلا بيقين مثله۔"

(کتاب الصوم، فصل انواع الصیام ج نمبر ۲  ص نمبر ۸۰،دار الکتب العلمیہ)

فتاوی تتارخانیہ میں ہے:

"و في الظهيرية و عن ابن عباس انه يعتبر في حق كل بلدة روية اهلها. و في القدوري اذا كان بين البلدتين تفاوت لا يختلف المطالع لزم حكم اهل احدي البلدتين البلدة الاخري فاما اذا كان تفاوت يختلف المطالع لزم حكم احدي البلدتين البلدة الاخری۔"

(کتاب الصوم فصل رویت ہلال ج نمبر ۳ ص نمبر  ۳۶۵،مرکز النشر و التوزیع)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"«إن كان بالسماء علة فشهادة الواحد على هلال رمضان مقبولة إذا كان عدلا مسلما عاقلا بالغا حرا كان أو عبدا ذكرا كان أو أنثى»......ولا يشترط في هذه الشهادة لفظ الشهادة، ولا الدعوى، ولا حكم الحاكم حتى إنه لو شهد عند الحاكم وسمع رجل شهادته عند الحاكم وظاهره العدالة وجب على السامع أن يصوم.......وإن لم يكن بالسماء علة لم تقبل إلا شهادة جمع كثير يقع العلم بخبرهم، وهو مفوض إلى رأي الإمام من غير تقدير هو الصحيح كذا في الاختيار شرح المختار.وسواء في ذلك رمضان وشوال وذو الحجة كذا في السراج الوهاج.......وإن كان بالسماء علة لا تقبل إلا شهادة رجلين أو رجل وامرأتين ويشترط فيه الحرية، ولفظ الشهادة كذا في خزانة المفتين۔"

(کتاب الصوم ،باب ثانی ج نمبر ۱ ص نمبر ۱۹۷،دار الفکر)

جواہر الفقہ میں ہے:

"اگر پورے ملک میں ایک ہی دن منانے کا فیصلہ کرنا ہی ہے تو اس کی جائز صورت یہ ہے کہ پہلے تو ماہرین فلکیات و موسمیات اور محقق علماء کی جماعت اس کی تحقیق کرے کہ پاکستان میں کراچی سے پشاور تک اور دوسری جانب ڈھاکہ اور سلہٹ تک از روئے قواعد ریاضی ایسا اختلاف مطالع کہیں ہوسکتا ہے یا نہیں جس کی بناء پر ایک جگہ کی شہادت کا اعتبار کرنے سے دوسری جگہ مہینہ صرف اٹھائیس دن کا رہ جائے یا اکتیس دن کا بن جائے ۔ اگر ایسا اختلاف مطالع نہیں ہے تو پورے مغربی اور مشرقی پاکستان میں ایک ہی دن عید منائی جاسکتی ہے۔جس کی شرائط بعد میں ذکر کی جائیں گی۔اگر ایسا اختلاف ہے تو جس حصہ ملک میں ایسا اختلاف ہے تو اس کو علیحدہ کر کے باقی ملک میں ایک دن عید منائی جائے اور دوسرے حصہ کو وہاں کی رویت کے تابع چھوڑا جائے۔"

(رویت ہلال ج نمبر ۳ ص نمبر  ۴۶۶،مکتبہ دار العلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144306100082

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں