بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

بریل کوڈ میں قرآن تیار کرانا اور اسے بلا وضو چھونا


سوال

سوال (۱): نابینا لوگوں کے لیے بریل رسم میں قرآن کریم تیار کرنا جائز ہے یا نہیں؟

سوال (۲) بریل قرآن مجید میں مکمل رسم عثمانی کی اتباع لازم و ضروری ہے یا تخفیف کی بھی گنجائش ہو سکتی ہے جبکہ بریل قرآن میں مکمل رسم عثمانی کی اتباع بآسانی ہو سکتی ہے۔مکمل رسم عثمانی کی اتباع میں زیادہ سے زیادہ کچھ ہی صفحات کا اضافہ ہو سکتا ہے؟ مختلف بریل مصاحف میں موجود حذف و تبدیل کی مثالیں یہ ہیں :

(۱) تبدیل کی شکل : ( ال له ) لفظ اللہ کے لام پر تشدید حذف کرنے اور تقسیم لفظ کی وجہ سے اصلی شکل میں تبدیلی ہوئی ہے۔

(۲) حذف حرف اصلی : (بِ ۔ یاتِنا ) اس کے شروع میں الف قطعی محذوف ہے ۔

ابدال : (صلاة) نابینا کو تلاوت میں مغالطے اور اشتباہ سے بچانے کے  لیے اصلی حرف واو کو الف سے بدل دیا گیا ہے۔

(۴) حذف (ماكن ) اسمیں الف اصلی کو حذف کر کے کھڑا ز بر لکھا گیا ہے۔

(۵) نقل حرکت : (حنیفاً ) اسمیں دوز بر بجائے فاء کے الف پر لایا گیا ہے جس کی وجہ سے الف ہمزہ سے بدل جاتا ہے۔

(1) دو حرف کے قائم مقام ایک حرف کو بنانا : ( مبتدی نابینا طلبہ کی سہولت کے لئے اختصار کے پیش نظر دو حرفوں کے قائم مقام بریل رسم میں کوئی ایک ایسا نمبر متعین کیا گیا ہے جو ان دونوں کی ترجمانی کرتا ہے؟ جبکہ ان دونوں حرفوں کے لیے الگ الگ نمبرات موجود ہیں۔ مثلاً "لا" دو حرفوں (لام، الف) سے مرکب ہے، بریل میں لام کا نمبر الگ اور الف کا نمبر الگ ہے ۔ ملا (مرکب) کے  لیے ایک خاص نمبر متعین کر دیا گیا ہے ) دو کلمہ کی مثال : (ولاالضالین) ایک کلمہ کی مثال : (ملائه ) ل کے الف کو حذف کئے بغیر پڑھا جائیگا حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے۔

سوال (۳) : اعراب قرآنی کی شرعی حیثیت کیا ہے اسکے حذف و تخفیف یا کسی قاعدہ بریل کی وجہ سے ترمیم کی کس حد تک گنجائش ہے؟

(1) ( من ربك ) اس میں را پر تشدید متروک ہے۔

(۲) (علی الله ) اسمیں کھڑا زبر بجائے لام کے یاء پر ہے۔

(۳) حذف حرکت : (اولئك ) واوے پہلے پیش حذف کیا گیا ہے، بریل قاعدہ کی مطابق اس کو واومدہ سے پڑھا  جائے گا۔

(۴) حروف مدہ والے کلمات کے اعراب کو ختم کر کے صرف حروف باقی رکھے گئے ہیں۔ بحمد الله تعالى المدرسة الامدادیة للمكفوفين ، میل وشارم، تملناڈو نے ۲۰۱۳ء سے ۲۰۱۹ ء تک کی پوری محنت اور کوشش سے بریل قرآن مجید کو مکمل رسم عثمانی کے عین مطابق تیار کر کے پرنٹ کر چکا ہے جس سے پورے ہندوستان کے نابینا طلبہ پڑھتے اور مستفید ہوتے آرہے ہیں۔

سوال (۴) : بریل رسم الخط کے مصحف کو بغیر وضوء کے چھو سکتے ہیں یا نہیں؟

سوال (۵) قرآن مجید کے علاوہ دیگر عربی کتابوں کا ( درسی و غیر درسی ) بریل رسم میں رسم عثمانی ہی کے مطابق طباعت ضروری اور لازمی ہے یا سہولت کے خاطر آسان رموز کو اختیار کرنے کی گنجائش ہے؟

جواب

1: نابیناؤں کی مجبوری وسہولت کی بنا پر بریل کوڈ میں قرآن مجید  تیار کرناجائز  اور مستحسن امر ہے۔ 

2۔بریل کوڈ در اصل وہ ابھرے ہوئے نقوش ہیں جو نابینالوگوں کے لیے بنائے گئے ہیں، جنھیں نابینا لوگ ہاتھ کے پوروں سے چھوکرقرآن مجید کے حروف حرکات اورسکنات کوپہچنان لیتے ہیں،یہ نقوش صرف حرف شناسی میں مدد کرتے ہیں،مستقل کوئی رسم الخط نہیں ہے، اس لیے بریل کوڈ میں قرآن مجید تیار کرانے میں رسم عثمانی کی اتباع  بھی ضروری نہیں ہے،باقی اگر جدید رموز اور علامات  اختیار کرناجو رسم عثمانی کے قریب تر ہو اور اس میں  نابیناؤں کو بھی قرآن مجید پڑھنے میں مشکل نہ ہو تومستحسن ہے۔ 

3۔نقطوں کی رعایت اور حرکات وسکنات کے ساتھ قرآن مجید کی طباعت ایک مستحب امر ہے، لازم نہیں ہے،  جیسا کہ الجزائر کے قرآن مجید میں اب بھی نقطے وغیرہ نہیں ہیں، ہمارے ملک میں التباس کے خطرے کے پیش نظر اس کوحذف نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی تخفیف کرنی چاہیے،البتہ چونکہ  بریل کوڈ کوئی رسم الخط ہی نہیں،اس لیے اس میں جس طرح نابیناؤں کو سہولت ہو  اسی طرح طبع کرناجائز ہے۔

بریل کوڈ میں تیار کردہ قرآن پر اصل قرآن کی طرح احکام جاری نہیں ہوں گےوضو کے بغیر بھی چھونا جائز ہوگا البتہ وضو کے ساتھ چھونا بہتر ہوگا۔

5۔نابینا لوگوں کے لیےدیگر عربی کتابوں کی بھی بریل کوڈ/رموز میں طباعت جائز ہے،رسم عثمانی کی اتباع ضروری نہیں ہے۔

التعریفات للجرجانی میں ہے:

"الخط: تصوير اللفظ بحروف هجائية."

(ص99،ط؛دار الکتب العلمیۃ)

المقنع في رسم مصاحف الامصار ميں ہے:

"وسئل مالك رحمه الله هل يكتب المصحف على ما أحدثه الناس من الهجاء فقال لا إلا على ‌الكتبة ‌الأولى.

حدثنا أبو محمد عبد الملك بن الحسن إن عبد العزيز بن علي حدثهم قال حدثنا المقدام بن تليد قال حدثنا عبد الله بن عبد الحكم قال قال اشهب سئل مالك فقيل له ارأيت من استكتب مصحفا اليوم أترى أن يكتب على ما احدث الناس من الهجاء اليوم فقال لا أرى ذلك ولكن يكتب على ‌الكتبة ‌الأولى قال أبو عمرو ولا مخالف له في ذلك من علماء الآمة وبالله التوفيق."

(‌‌باب ذكر من جمع القرآن في الصحف أولا ومن ادخله بين اللوحين ومن كتبه من الصحابة وعلى كم من نسخة جُعل وأين وُجّه بكل نسخة،ص19،ط؛مكتبة الكليات الازهريه)

الاتقان فی علوم القرآن میں ہے:

"القاعدة العربية أن اللفظ يكتب بحروف هجائية مع مراعاة الابتداء والوقوف عليه وقد مهد النحاة له أصولا وقواعد وقد خالفها في بعض الحروف خط المصحف الإمام

وقال أشهب: سئل مالك: هل يكتب المصحف على ما أحدثه الناس من الهجاء؟ فقال: لا إلا على ‌الكتبة ‌الأولى رواه الداني في المقنع، ثم قال ولا مخالف له من علماء الأمة

وقال في موضع آخر: سئل مالك عن الحروف في القرآن الواو والألف، أترى أن يغير من المصحف إذا وجد فيه كذلك؟ قال: لا

قال أبو عمرو: يعني الواو والألف والمزيدتين في الرسم المعدومتين في اللفظ نحو الواو في "أولوا"،وقال الإمام أحمد: يحرم مخالفة مصحف الإمام في واو أو ياء أو ألف أو غير ذلك وقال البيهقي في شعب الإيمان: من كتب مصحفا فينبغي أن يحافظ على الهجاء الذي كتبوا به هذه المصاحف، ولا يخالفهم فيه ولا يغير مما كتبوه شيئا فإنهم كانوا أكثر علما وأصدق قلبا ولسانا وأعظم أمانة منا فلا ينبغي أن يظن بأنفسنا استدراكا عليهم

قلت، وسنحصر أمر الرسم في الحذف والزيادة والهمز والبدل والفصل، وما فيه قراءتان فكتب على إحداهما."

(‌‌النوع السادس والسبعون: في مرسوم الخط وآداب كتابته،ج4،ص168،ط؛الہیئۃ المصریۃ العامۃ)

مناہل العرفان فی علوم القرآن میں ہے:

"حكم نقط المصحف وشكله

كان العلماء في الصدر الأول يرون كراهة نقط المصحف وشكله مبالغا منهم في المحافظة على أداء القرآن كما رسمه المصحف وخوفا من أن يؤدي ذلك إلى التغيير فيه ومن ذلك ما روي عن ابن مسعود أنه قال: جردوا القرآن ولا تخلطوه بشيء. وما روي عن ابن سيرين أنه كره النقط والفواتح والخواتم إلى غير ذلك.

ولكن الزمان تغير- كما علمت- فاضطر المسلمون إلى إعجام المصحف وشكله لنفس ذلك السبب أي للمحافظة على أداء القرآن كما رسمه المصحف وخوفا من أن يؤدي تجرده من النقط والشكل إلى التغيير فيه.

فمعقول حينئذ أن يزول القول بكراهة ذينك الإعجام والشكل ويحل محله القول بوجوب أو باستحباب الإعجام والشكل. لما هو مقرر من أن الحكم يدور مع علته وجودا وعدما. قال النووي في كتابه التبيان ما نصه: قال العلماء: ويستحب نقط المصحف وشكله فإنه صيانة من اللحن فيه. وأما كراهة الشعبي والنخعي النقط فإنما كرهاه في ذلك الزمان خوفا من التغيير فيه. وقد أمن ذلك اليوم فلا يمنع من ذلك لكونه محدثا فإنه من المحدثات الحسنة فلا يمنع منه كنظائره مثل تصنيف العلم وبناء المدارس والرباطات وغير ذلك. والله أعلم اهـ"

(‌‌المبحث العاشر: في كتابة القرآن ورسمه ومصاحفه وما يتعلق بذلك،ج1،ص409،ط؛مطبعۃ عیسی البابی الحلبی)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ميں هے:

"(قوله: ومسه إلا بغلافه) أي تمنع الحائض مس القرآن لما روى الحاكم في المستدرك وقال صحيح الإسناد عن «حكيم بن حزام قال لما بعثني رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إلى اليمن قال لا تمس القرآن إلا وأنت طاهر» واستدلوا له أيضا بقوله تعالى {‌لا ‌يمسه إلا المطهرون} [الواقعة: 79] فظاهر ما في الكشاف صحة الاستدلال به هنا إن جعلت الجملة صفة للقرآن، ولفظه: في كتاب مكنون مصون عن غير المقربين من الملائكة لا يطلع عليه من سواهم وهم المطهرون من جميع الأدناس أدناس الذنوب وما سواها إن جعلت الجملة صفة لكتاب مكنون وهو اللوح، وإن جعلتها صفة للقرآن فالمعنى لا ينبغي أن يمسه إلا من هو على الطهارة من الناس يعني مس المكتوب منه. اهـ."

(باب الحیض،ج1،ص211،ط؛دار الکتاب الاسلامی)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144506102023

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں