بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

بکنگ کینسل کروانے کی صورت میں کٹوتی کا حکم


سوال

 ہوٹل میں اگر آخری دن بکنگ کینسل کرتے ہیں تو بکنگ کروانے والے گیسٹ کی رقم کٹ جاتی ہے اور ہوٹل والے کو ملتی ہے کیوں کہ آخری وقت میں کمرہ خالی جائے گا اور کوئی لینے والا نہیں ہوگا تو تلافی کے لیے  ہوٹل مالک کا رقم لینا جائز ہے؟ نیز اگر اس صورت میں درمیان میں کوئی کمپنی ہو جیسے بکنگ ڈاٹ کام یا اگوڈا جو کمپنیاں لینے والے اور ہوٹل کے درمیان ملانے کا فرض انجام دیتی ہے تو پھر کیا حکم ہوگا؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں ہوٹل کی بکنگ کینسل کروانے کی صورت میں گیسٹ  کی رقم کاٹنا شرعا ًجائز نہیں ،اسی طرح اگر گیسٹ اور ہوٹل کے درمیان کوئی کمپنی ملانے کا فرض انجام دیتی ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر مذکورہ کمپنی ہوٹل کے نمائندہ کے طور پر کام کرتی ہے تو اس صورت میں کمپنی کے لیے رقم کاٹنا شرعاًجائز نہیں ہوگا اور اگر کمپنی بطور نمائندہ نہیں بلکہ کمیشن کے طور پر کام کرتی ہے تو اس صورت میں کمپنی کا  بطور کمیشن رقم لینا شرعاًدرست ہوگا۔

فتاوی شامی  میں ہے:

"(لا بأخذ مال في المذهب) بحر. وفيه عن البزازية: وقيل يجوز

مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان (قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.

وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى. وفي شرح الآثار: ‌التعزير ‌بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ."

(کتاب الحدود،باب التعزیر،ج:۴،ص:۶۱،سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310100618

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں