بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ادارہ کی طرف سے ملازمین کو ملنے والے بونس کی حیثیت


سوال

ایک اسلامی اسکول اپنے ملازمین(اساتذہ) کو ہر سال کچھ رقم عیدی دیتا ہےیعنی ہر شخص کو اس کی تنخواہ کا تیس فیصد دیتا ہے، ایک طویل عرصے سے یہ سلسلہ جاری ہے، پھر اچانک وہ ادارہ اس سلسلے کو کسی ایک سال کے آخر میں (جب عیدی دینے کا وقت آتا ہے)  یہ کہتے ہوئے بندکردیتا ہے کہ یہ عیدی دینا ہمارا احسان ہے،ملازمین کا حق نہیں ہے ،حالاں کہ یہ سلسلہ اس ادارے میں دس سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہے اور اس طرح کے دیگر تمام اداروں میں بھی ملازمین کو (تنخواہوں کے علاوہ) سالانہ کوئی الاؤنس یا بونس وغیرہ عیدی یا کسی اور نام سے دیا جاتا ہے ،گویا کہ یہ عرف بن چکا ہے ، لہذا اب سوال یہ ہے کہ اس ادارے کا یہ سلسلہ یوں اچانک بند کر دینا المعروف كالمشروط کی مخالفت اور عرف کے خلاف نہیں ہوگا؟

جواب

کسی بھی  ادارہ میں ملازمت کرنے کی صورت میں اگر ملازمین کے ساتھ معاہدہ کے وقت یہ طے ہو تا ہو کہ عیدی بھی دی جائے گی ،تو ایسی صورت میں یہ عیدی تنخواہ کا حصہ ہے ،ادارہ پر حسبِ معاہدہ عیدی دینا لازم ہوگا، لیکن اگر ادارہ اور ملازمین کے درمیان عیدی دینا طے نہیں ہوتا ہو،بلکہ ادارہ اپنی خوشی سے عیدی دیتا  ہوتو یہ ادرہ کی طرف سے محض تبرع اور احسان ہے ملازمین کا استحقاق نہیں، اگر چہ سالہا سال سے اس کا تعامل رہے۔

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ عیدی اگر معاہدہ کی  بنیاد پر نہیں دی جاتی ہے ،بلکہ ادارہ اپنی طرف  سے دیتاہے تو یہ تبرع ہے ،اگر  ادارہ اس کو جاری رکھتا ہے تو اچھی بات ہے اور یہ ملازمین کی دلجوئی کا باعث ہے ،لیکن اگر نہیں دیتا تو ان کو مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"قوله تعالى:{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ}روى عن ابن عباس ومجاهد ومطرف والربيع والضحاك والسدي وابن جريج والثوري قالوا: العقود في هذا الموضع أراد بها العهود."

فتاوی شامی میں ہے:

"وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين."

(کتاب الاجارۃ،ج:6،ص،5،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"ولا جبر على ‌المتبرع."

(کتاب الوصایا ،باب الوصی،ج:6،ص:713)

درر الحکام میں ہے:

"كل ‌يتصرف ‌في ‌ملكه ‌المستقل ‌كيفما ‌شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير[انظر المادة:1197]، كما أنه لا يجبر من أحد على التصرف أي لا يؤمر أحد من آخر بأن يقال له: أعمر ملكك وأصلحه ولا تخربه ما لم تكن ضرورة للإجبار على التصرف كما ذكر في المواد (1317 و 1318 و 131 و 1320)."

(‌‌الكتاب العاشر الشركات، الباب الثالث، الفصل الأول، ج:3، ص:201، ط:دار الجيل)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509100588

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں