بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

وصول کرنے سے پہلے بہن کا میراث میں سے اپنا حصہ معاف کرنے سے معاف نہیں ہوتا


سوال

ہم دو بھائی اور تین بہنیں ہیں ،والد کی جائیداد میں سے ایک بہن کو مکان دے کر فارغ کیا ،اور ایک بہن کو  بی سی  کے تھوڑے تھوڑے پیسے ادا کرکے حصہ دے دیا ،اور ایک بہن کو حصہ نہیں دیا اس  بہن سے وقت مانگا، لیکن بعد میں میں نے اس  سے  اس کا حصہ  معاف کروایا ،اس نے معاف بھی کردیا،اور ہم دونوں بھائیوں کا 1999 میں یہ طے ہوا کہ اب جو بچاہے وہ آدھا آدھا ہوگا ،2001 تک تقسیم کرنے   ضرورت  بھی نہیں تھی، لڑائی جھگڑے بھی تھے ،ہم نے  آدھاآدھا وصول نہیں کیا، 2001 کے بعد میں نے آدھا آدھا وصول کرنا شروع کر دیا، والد صاحب کا  ایک بلڈنگ میں حصہ تھا ،اس وقت اس کے بکنے کے ساڑھے چھ لاکھ روپے آئے تھے،بھائی نے وہ اپنے پاس رکھے ، اس میں سے مجھے کچھ نہیں دیا، میری مجبوری تھی، اس سے مانگا اس نے نہیں دیا ۔

1۔اب سوال یہ ہے کہ بہن کی معافی معتبر ہے یا نہیں ؟کیوں کہ ان کی اولاد حصہ مانگ رہی ہے۔بہن کا انتقال ہوا ہے، ورثاء میں  شوہر،  چار بیٹے اور دو بیٹیاں زندہ ہیں۔

2۔ اگر معتبر نہیں تو اس کا حصہ موجودہ قیمت کے اعتبار سے دینا ہوگا یا اس وقت کے حساب سے ؟

3۔بھائی نے چونکہ دو سال تو آدھا حصہ مجھے نہیں دیا اور بلڈنگ کا پیسہ بھی اپنے پا س ہی رکھا ،تو کیا بہن کو حصہ دینے کی صورت میں دونوں بھائی برابر دیں گے یا دوسرےبھائی زیادہ دیں گے؟

جواب

1)واضح رہے کہ میراث کی تقسیم سے پہلے کسی وارث کا اپنے شرعی حصہ سے بلا عوض دست بردار ہوجانا شرعاً معتبر نہیں ہے، البتہ ترکہ تقسیم ہوجائےتو پھر ہر ایک وارث اپنے حصے پر قبضہ کرنے  کے بعد اپنا حصہ کسی  کو دینا چاہے  یا کسی کے حق میں دست بردار ہوجائے تو یہ شرعاً جائز اور  معتبر ہے،لہذا  صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ بہن تقسیم سے پہلے اپنے حصہ سے دست بردار ہوئی تھی، تو ان کا دست بردار ہونا شرعا معتبر نہ ہوگا، جس کی وجہ سے بھائی پابند ہوں گے کہ وہ  بہن کو اس کا شرعی حصہ مکمل ادا کریں۔بہن اوران کی غیرموجودگی میں ان  کی اولادکامطالبہ درست ہے۔

2)سائل کے والد مرحوم  کی جائیداد میں بہن کا جو شرعی  حصہ ہے وہ حصہ یا  باہمی رضامندی سے  اس کی جو قیمت طے ہوجائے وہ دینا لازم ہے۔

3) مذکورہ بہن کو دونوں بھائی برابر      برابر حصہ دیں گے۔

باقی مرحوم کی میراث اس کے ورثاء میں تقسیم کرنے  کاشرعی طریقہ یہ ہےکہ سب سے پہلے مرحوم  کے کل ترکہ سے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین  کا خرچہ نکالنے کے بعد،اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا  قرض  ہو تو  اس  کی ادائیگی کے بعد، اگرمرحوم  نے کوئی جائزوصیت کی ہو تو  باقی مال کے ایک تہائی مال میں اس کو نافذ کرنے کے بعد ،باقی کل جائیداد منقولہ وغیر منقولہ کو 200حصے بنا کر مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو 80حصے، مرحومہ بیٹی کے شوہر کو 10 حصے، ہر ایک بیٹے کو 6 حصے اور ہر ایک بیٹی  3 حصے ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:200/280/7

بیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹی
22111
8080فوت4040
---------مصالحتین

میت:40/4مف1

شوہربیٹابیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹی
13
10666633

یعنی 100روپے میں سے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو 40 روپے ،مرحومہ بیٹی کے شوہر کو 5 روپے، ہر ایک بیٹے  کو 3روپے اور ہرا یک بیٹی  کو 1.50روپے ملیں گے۔

" تکملۃ رد المحتار علی الدر المختار" میں ہے:

" الإرث جبري لَا يسْقط بالإسقاط".

(کتاب الدعوی،ج: 7،ص:505 ،  ط :سعید)

"الأشباہ والنظائر" لابن نجیم  میں ہے:

 "لو قال الوارث : تركت حقي لم يبطل حقه إذ الملك لا يبطل بالترك".

(ص:309- ما یقبل الإسقاط من الحقوق وما لایقبله، ط:قدیمی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144305100645

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں