بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 محرم 1444ھ 18 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

بیوی سے ہمبستری کے فضائل


سوال

بیوی سے ہم بستری کرنے پر کیا کیا فضائل ہیں؟ تفصیل سے بتادیں! کوئی کتاب ہو تو وہ بھی بتادیں!

جواب

جب کوئی شخص اپنی بیوی سے   ہم بستری کرتا ہے تو  اسے اس پر اجروثواب حاصل ہوتا ہے؛ کیوں کہ اس نے حرام کو چھوڑ کر حلال کو اختیار  کیا ہے۔ اس کی تائید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی درج  ذیل حدیثِ  مبارک  سے بھی ہوتی ہے:

  حضرت ابو ذر  غفاری رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ   کچھ صحابہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) مال دار  لوگ اجر و ثواب  اکٹھا کر  گے، وہ بھی اسی طرح نماز پڑھتے ہیں جس طرح ہم پڑھتے ہیں اور جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں  وہ بھی روزے رکھتے ہیں اور وہ اپنے زائد مال سے صدقہ وخیرات کرتے ہیں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: کیا اللہ نے تمہارے لیے بھی ایسا نہیں بنا یا جس سے تم بھی صدقہ کر سکتے ہو، بلا شبہ ہرتسبیح  (سبحان اللّٰه) کہنا صدقہ ہے، اور ہر حمد (الحمدللّٰه) کہنا صدقہ ہے، اور ہر کلمہ  لا إلٰه إلا اللّٰه پڑھنا صدقہ ہے، اور نیکی کا حکم دینا اور بُرائی سے منع کرناصدقہ ہے اور تم میں سے ہر ایک کی شرم گاہ میں صدقہ ہے۔ صحابہ کرام نے  عرض کیا:  اے اللہ کے  رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) ہم میں سے کوئی اپنی شہوت پوری کرتا ہےتو کیا اسے اس پر بھی اجروثواب ملتا ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم مجھے یہ بتاؤ کہ اگر وہ اسے حرام میں استعمال  کرے تو کیا اسے گناہ ہوگا؟ تو اسی طرح  وہ اسے حلال میں استعمال کرتا ہےتو اسے اجروثواب  بھی حاصل ہوگا۔

حدیث شریف میں ہے:

عن أبي ذر أن ناسا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قالوا للنبي صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله، ذهب أهل الدثور بالأجور يصلون كما نصلي، ويصومون كما نصوم، ويتصدقون بفضول أموالهم، قال: " أوليس قد جعل الله لكم ما تصدقون؟ إن بكل تسبيحة صدقة، وكل تكبيرة صدقة، وكل تحميدة صدقة، وكل تهليلة صدقة، وأمر بالمعروف صدقة، ونهي عن منكر صدقة، وفي بضع أحدكم صدقة، قالوا: يا رسول الله، أيأتي أحدنا شهوته ويكون له فيها أجر؟ قال: «أرأيتم لو وضعها في حرام أكان عليه فيها وزر؟ فكذلك إذا وضعها في الحلال كان له أجر»."

(صحیح مسلم/جلد:2/صفحہ:697، باب بيان أن اسم الصدقة يقع على كل نوع من المعروف،ط:دار إحياء التراث العربي - بيروت)

 باقی اس متعلق کتاب ہمارے علم میں نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200777

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں