بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 رجب 1444ھ 27 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

بیوی پر بد کرداری کا الزام لگانا


سوال

میرے قریبی عزیز بیرون ملک کئی  سالوں سے ہیں،  ان کے 4 بچے ہیں،  شادی کو 30 سال کے قریب ہو گئے ہیں ، شوہر اب بیوی پر بدچلنی کا الزام لگا رہا ہے اور ساتھ  یہ بھی دعوی  کر رہا ہے کہ میری بیوی بوقتِ  شادی باکرہ نہیں تھی،  جب کہ ان کی اہلیہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر یہ  صفائی دے  رہی ہے کہ اس کا شادی سے پہلے اور  بعد میں  کبھی بھی کسی  سے کوئی ناجائز تعلق نہ  تھا نہ اب ہے،  جب یہی سوال شوہر سے کیا جائے تو وہ خاموش ہو جاتے ہیں،  ایسی صورت میں آپ کی کیا رائے ہے؟    کیا ایسے شوہر کے ساتھ بیوی کو رہنا چاہیے؟ اور شوہر کے لیے بھی کیا حکم ہے؟ 

جواب

کسی پر  ثبوت کے بغیر  الزام لگاناسخت گناہ اور حرام ہے،  پاك دامن عورت پر تہمت لگانے کے بارے میں قرآن کریم میں سخت وعید آئی ہے: 

"اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ (النور، 23)

ترجمہ: جو لوگ تہمت لگاتے ہیں ان عورتوں کو جو پاک دامن ہیں (اور) ایسی باتوں (کے کرنے) سے (بالکل) بے خبر ہیں (اور) ایمان والیاں ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی جاتی ہے اور ان کو (آخرت میں) بڑا عذاب ہوگا۔(بیان القرآن) 

حدیث میں بھی کسی پر بے بنیاد الزام لگانےکو شدید گناہ فرمایا گیا ہے:

"عن يحيى بن راشد، قال: جلسنا لعبد الله بن عمر، فخرج إلينا فجلس، فقال: سمعت رسول الل -صلى الله عليه وسلم- يقول: "من حالت شفاعته دون حد من حدود الله، فقد ضاد الله، ومن خاصم في باطل وهو يعلمه، لم يزل في سخط الله حتى ينزع، ومن قال في مؤمن ما ليس فيه، أسكنه الله ‌ردغة الخبال حتى يخرج مما قال"

(سنن أبي داؤد، كتاب الأقضية، باب فيمن يعين على خصومة من غير أن يعلم أمرها، ج:5، ص:450، ط: دار الرسالة ا لعالمية)

ترجمہ: "یحییٰ بن راشد کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر ؓ کے انتظار میں بیٹھے تھے، وہ ہمارے پاس آ کر بیٹھے پھر کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا ہے: جس نے اللہ کے حدود میں سے کسی حد کو روکنے کی سفارش کی تو گویا اس نے اللہ کی مخالفت کی، اور جو جانتے ہوئے کسی باطل امر کے لیے جھگڑے تو وہ برابر اللہ کی ناراضگی میں رہے گا یہاں تک کہ اس جھگڑے سے دستبردار ہوجائے، اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اللہ اس کا ٹھکانہ جہنمیوں میں بنائے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات سے توبہ کرلے ۔"

الغرض مسلمان پر بہتان باندھنے یا اس پر بے بنیاد الزامات لگانے پر بڑی وعیدیں آئی ہیں، اِس لیے اِس عمل سے باز آنا چاہیے اور مذکورہ شخص نے اپنی بیوی  پربلاثبوت جو   تہمت لگائی ہے تواس سے معافی مانگنی چاہیے اور اللہ سے توبہ بھی کرنی چاہئے تاکہ آخرت میں گرفت نہ ہو۔اور دونوں کو چاہیے کہ  آپس کی بات چیت سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں ، اگر حل نہ  ہوتو خاندان کےبڑوں کو درمیان میں بٹھا کر مسئلہ حل کرایا جائے، شادی کے اتنے عرصے بعد  یک دم رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ کرنا دانشمندی نہیں ہے ۔ 

قرآن مجید میں اس کے متعلق ارشاد  ہے کہ  :

"وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَھْلِهٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَھْلِھَا  ۚ اِنْ يُّرِيْدَآ اِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا۔"(النساء، آیت نمبر: 35)

ترجمہ :"اور اگر تم (اوپر والوں) کو ان دونوں (میاں بیوی) میں کشاکش کا اندیشہ ہو تو تم لوگ ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتا ہو مرد کے خاندان سے اور ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتا ہو عورت کے خاندان سے بھیجو اگر ان دونوں آدمیوں کو اصلاح منظور ہوگی تو اللہ تعالیٰ ان (میاں بی بی) میں اتفاق فرماویں گے۔"(بیان القرآن)

"التفسير المظهري " میں ہے:

"إن الذين يرمون المحصنات العفيفات ‌الغافلات عن الفاحشة اللائي لا تقع الفاحشة في قلوبهن المؤمنات بالله ورسوله لعنوا في الدنيا والآخرة لما طعنوا فيهن كذبا ولهم عذاب عظيم (23) فى نار جهنم ولهذا حكم كل قاذف قذف محصنة مؤمنة غافلة وقوله تعالى والذين يرمون المحصنات ثم لم يأتوا بأربعة شهداء فاجلدوهم الاية حكم كل قاذف محصنة غافلة كانت اولا- فالجلد وعدم قبول الشهادة حكم كل قاذف سواء كان في قذفه صادقا لم يجد الشهود او كان كاذبا واللعن يختص بمن قذف كاذبا فان المقذوفة غافلة عما افترى عليها فان جريمته أعظم."

(سورة النور، ج:6، ص:481، ط: المكتبة الرشيدية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144403101996

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں