بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے کسی شخص کے ساتھ ناجائز تعلقات ہوں


سوال

میری شادی کو تقریباً تیرہ سال ہوئے ہیں، تین بچے ہیں، میری بیوی کے ایک شخص سے نا جائز تعلقات ہیں، اس بات کا علم مجھے چند دن قبل ہوا، میرے پاس ثبوت بھی ہیں، میری بیوی کہتی ہے کہ وہ میرے بھائی کی طرح ہے، جبکہ بیوی کے موبائل سے ایسے میسیج ملے ہیں جن سے دونوں کے درمیان غیر شرعی تعلقات واضح ہوتے ہیں (ایک دوسرے سے عاشقانہ باتیں، ملاقاتوں کی سیٹنگ وغیرہ) ، اسی طرح دونوں کو کئی لوگوں کے سامنے بند گھر سے بھی پکڑا ہے۔

میری بیوی انکار کر رہی ہے، اس صورت میں کیا حکم ہے؟

میں اگر بیوی کو چھوڑنا/ طلاق دینا چاہوں تو میرے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں سائل نے اپنی بیوی کی اخلاقی کمزوریوں کے بارے  میں جو باتیں  لکھی ہیں اگر وہ واقعتًا  درست ہیں تو بیوی  کے یہ اعمال  حرام  اور سخت گناہ ہیں، بیوی کو چاہیے کہ اس  گناہ کے عمل کو ترک کرکے صدق دل سے توبہ واستغفار کرے،اگر بیوی اپنے فعل پر نادم ہو کر صدقِ دل سے توبہ کر لیتی ہے اورآئندہ ایسی غلطیاں نہ کرنے کا وعدہ کرتی ہےتو بہتر ہوگا کہ سائل اسے گھر بسانے کا ایک موقعہ دےدے، لیکن اگر عورت اپنی غلطی ہی تسلیم نہ کرے ( جب کہ ثبوت اور گواہوں کے ذریعے غلطی یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے) یا غلطی تسلیم کرے لیکن معافی نہ مانگے، شرمندہ نہ ہو، تو ایسی صورت میں سائل اگر طلاق دینا چاہےتو دے سکتا ہے، اس سے سائل گناہ گار نہیں ہوگا، البتہ بہتر یہ ہے کہ تین طلاقیں ایک ساتھ نہ دے بلکہ ایک طلاق دے کر چھوڑ دے، عدت گزرنے سے پہلے پہلے اگر نباہ کی کوئی صورت بن جائے تو رجوع کر لے ورنہ عدت ختم ہونے سے نکاح ختم ہو جائے گا، اس کے بعد اگر ساتھ رہنے کی کوئی صورت بنے تو دوبارہ نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنا ہوگا، اس صورت میں آئندہ کے لیے شوہر کو صرف دوطلاقوں کا حق ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة ‌ولا ‌عليها ‌تسريح ‌الفاجر ‌إلا ‌إذا ‌خافا ‌أن ‌لا ‌يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا."

(كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج:3، ص:50، ط: سعيد)

البحر الرائق میں ہے:

"لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة ‌ولا ‌عليها ‌تسريح ‌الفاجر ‌إلا ‌إذا ‌خافا ‌أن ‌لا ‌يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا."

(كتاب النكاح، فصل في المحرمات في النكاح، ج:3، ص:98، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144410101825

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں