بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی کوتین طلاق دینا اوردوبارہ نکاح کرنے کاحکم


سوال

 قریب ایک سال پہلے ایک موقع پر، میں نے اپنی بیوی   کو انتہائی غصے کی حالت میں ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیں (طلاق کے صریح الفاظ کے ساتھ طلاق دی)، میرے سسر کے مرشد جو شیخ ہونے کے ساتھ ساتھ مفتی بھی ہیں اور چودہ سو سال کے فقہاء کو بھی مانتے ہیں،تو جب ان سے مسئلے کا حل دریافت کیا گیا تو انہوں نے اپنے بزرگوں اور اپنے سلسلے کے بڑے علماء سے مشاورت کے بعد ہمارے سامنے دو صورتیں رکھیں:۔ ایک شرعی حلالہ اور دوسرا طلاق کا کفارہ، میں نے بغیر کسی علماء کے مشاورت کے طلاق کا کفارہ دینا زیادہ بہتر سمجھا تو انہوں نے میری رضامندی پر مجھ سے طلاق کا کفارہ ( جو کہ میرے حق مہر کا تقریباً چھ گنا رقم بنتی ہے) مجھ سے وصول کر کے ہمارا نیا نکاح نئے حق مہر کے ساتھ پڑھادیا،اب جب علماء کی صحبت اختیار کی تو مجھ پر یہ گمان ہوا کہ علماء حق سے ،اس مسئلے پر راہ نمائی  دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کے لیے لازم ہے،چوں کہ میرا تعلق دیوبند مکتبہ فکر سے ہے اور دیوبند اکابرین پر کامل یقین رکھتا ہوں تو اپنی ،اور اپنی اہلیہ کی آخرت کو مرکوز نظر رکھتے ہوئے کوئی بھی ایسا کام نہیں کرنا چاہتا ،جس سے اللہ ﷻ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت ہو ،اس سلسلے میں  میں یہ تصدیق کرنا چاہتا ہوں کہ کیا ہمارا دوسرا نکاح شریعت کے اعتبار سے درست تھا ،اور کیا ہمارا ساتھ رہنا جائز ہے؟ اگر نہیں تو جو رقم ان مفتی صاحب نے مجھ سے لی وہ یہ کہہ  کر وصول کی کہ وہ اسے مدارس میں صدقے کی نیت سے دیں گے تو کیا میری رقم واقعی صدقہ جاریہ کہلاۓ گی؟ میں اگر یہ نیت کرلوں کہ میں اس رقم کو اپنے والد کے روزوں کے فدیے (میرے والد الحمداللہ حیات ہیں مگر کافی عرصے سے طبعیت کی ناسازی کی وجہ سے روزہ رکھنے سے قاصر ہیں اور آگے بھی روزے کا اہتمام شاید نہ کر سکیں) کے طور پر صدقہ جاریہ کرتا ہوں جو کہ اب میری ملکیت نہیں تو کیا یہ رقم فدیے کے لیے مؤثر ہوگی؟ براہِ کرم ان تمام سوالات کا جواب قران و حدیث کی روشنی میں واضح کردیں۔

جواب

1-صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے اپنی بیوی کو تین مرتبہ صریح الفاظ سے مثلامیں نے تمہیں  طلاق دی کہے ہیں  ، تو اس سے اس  کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو چکی تھیں   ، جس کی وجہ سے اس کو بیوی اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی تھی  ، جس کے بعد  وہ نہ دوبارہ نکاح ہو سکتاتھا اور نہ ہی رجوع۔   تین طلاق کے بعدکفارہ اداکرکے ساتھ رہنا ناجائز اور حرام تھا،لہذاسائل کو چاہیے کہ   اپنی مطلقہ سے فی الفور علیحدہ ہوجائے ،اور ماضی میں جوکچھ کیاکیاہے اس پر توبہ واستغفارکریں  ۔

تین طلاق کے بعد ساتھ رہنے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ عورت عدت گزارنے کے بعد  کسی اور مرد سے نکاح کر لے اور ازدواجی تعلق بھی قائم کرلے، پھر اس کے بعد شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ اتفاقی طور پر طلاق دے دے تو عدت گزارنے کے بعد وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجاتی ہے، تاہم اس میں   طلاق کی شرط کے  ساتھ   تحلیل کی غرض سے نکاح کرنا مکروہِ  تحریمی ہے۔

2-جو رقم کفارہ کے نیت سے دی ہے ،وہ اب روزوں کافدیہ نہیں بن سکتی،البتہ یہ نفلی صدقہ ہوسکتاہے۔

نیز اس مرشد شیخ مفتی پر تعجب ہے۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن عائشة أن رجلا ‌طلق ‌امرأته ‌ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: (لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول."

(کتاب الطلاق،باب من اجازالطلاق الثلاث،ج،5،ص،2014،رقم الحدیث،4961،ط،دارابن کثیر)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإن ‌كان ‌الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به،ج:1،ص:473،ط:المطبعة الكبرى الأميرية)

فتح القدیرمیں ہے:

"و ذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث."

(کتاب الطلاق ،باب الطلاق السنۃ،ج،3،ص،469،ط،دارالفکر)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا وإن كانت معصيةً."

(أحكام القرآن للجصاص،ج،1،ص،529،ط، قديمي)

کتاب الام للشافعی میں ہے:

"والقرآن يدل والله أعلم على أن من طلق زوجةً له دخل بها أو لم يدخل بها ثلاثًا لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره، فإذا قال الرجل لامرأته التي لم يدخل بها: أنت طالق ثلاثًا فقد حرمت عليه حتى تنكح زوجًا."

(ج،5،ص،196،ط، دارالمعرفة بيروت)

الاشباہ والنظائرمیں ہے:

"وَإِنَّمَا اُشْتُرِطَتْ فِي الْعِبَادَاتِ بِالْإِجْمَاعِ أَوْ بِآيَةِ.........وَأَمَّا فِي الْعِبَادَاتِ كُلِّهَا فَهِيَ شَرْطُ صِحَّتِهَا إلَّا الْإِسْلَامَ."

(قاعدۃ الاولی لاثواب الابالنیة:ص،18-19،ط،دارالکتب العلمیة)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144410101399

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں